Saturday, August 15

مشرقی انڈونیشیا میں 7.7 شدت کے زلزلے سے 20 افراد جاں بحق

جکارتہ، 15 اگست 2026 (کامران راجا): مشرقی انڈونیشیا میں ہفتے کے روز 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے اور درجنوں آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق ہوگئے، ریسکیو حکام کے مطابق۔ زلزلے کے بعد کئی علاقوں میں ایک میٹر سے کم بلند سونامی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ حکام نے زلزلے کے تقریباً تین گھنٹے بعد سونامی کی وارننگ ختم کردی۔ مقامی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ فتھر رحمان کے مطابق بندرگاہی شہر ماؤمیرے اور اس کے اطراف ریسکیو اہلکاروں نے 20 لاشیں، 6 زخمی افراد جبکہ ملبے تلے دبے 2 افراد کو تلاش کیا۔ ماؤمیرے مشرقی انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں سکا ریجنسی کا مرکزی شہر ہے۔ زلزلے کے مرکز کے قریب ترین علاقے ناگیکیو میں ریسکیو ٹیمیں تاحال نہیں پہنچ سکیں کیونکہ مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند ہیں۔ انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی بی این پی بی کے مطابق ناگیکیو سے تقریباً 2 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ متعدد گھروں، گوداموں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ حکام نے علاقے کے بعض حصوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور بجلی کی بندش کی بھی اطلاع دی۔ مشرقی نوسا ٹینگارا کے گورنر ایمانوئل میلکیادیس لاکا لینا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کے ملبے تلے دب کر کم از کم 5 افراد ہلاک ہوئے۔ بی این پی بی نے کہا کہ وہ تاحال نقصانات اور جانی نقصان سے متعلق مزید معلومات جمع کر رہی ہے۔ رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں ماؤمیرے کی بندرگاہ پر ایک عمارت کے حصے کو ملبے میں تبدیل ہوتے جبکہ لوگوں کو چیختے اور سڑکوں پر بھاگتے دیکھا گیا۔

تالے بورا کے 51 سالہ رہائشی نے بتایا کہ زلزلہ انتہائی شدید تھا اور گھر میں موجود تمام افراد اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل آئے۔ مشرقی نوسا ٹینگارا، مغربی نوسا ٹینگارا اور جنوبی سولاویسی کے بعض علاقوں میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ کئی علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے تقریباً ایک منٹ تک جاری رہے۔ اینڈے ضلع کے ایک اسپتال میں مریضوں کو احتیاطی طور پر عمارت سے باہر منتقل کیا گیا، جبکہ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی بی ایم کے جی کے مطابق ابتدائی زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 58 منٹ پر آیا، جس کی گہرائی تقریباً 15 کلومیٹر تھی، جس کے بعد کئی آفٹر شاکس آئے۔ بی ایم کے جی کے مطابق اسی علاقے میں 1992 میں 7.5 شدت کا زلزلہ بھی آیا تھا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ آسٹریلیا کے سونامی وارننگ سینٹر نے کہا کہ زیر سمندر آنے والے زلزلے سے آسٹریلیا، اس کے جزائر یا علاقوں کے لیے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انڈونیشیا بحرالکاہل کے ’’رِنگ آف فائر‘‘ پر واقع ہے، جو دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور جہاں زمینی پرت کی مختلف پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں، جس کے باعث زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں معمول ہیں۔