
لاہور، 9 اکتوبر 2026 (غفران): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے ہر ضلع میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز (پی ایچ ایز) کے قیام اور ان اداروں میں 2 ہزار 820 تکنیکی آسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پی ایچ ایز کے قیام، شجرکاری مہمات، پارکوں کی بحالی اور شہروں کو سرسبز و خوبصورت بنانے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں بتایا گیا کہ 10 اضلاع میں پی ایچ ایز پہلے ہی فعال ہیں جبکہ مزید 11 اضلاع میں بھی یہ ادارے قائم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2027 تک مزید 20 اضلاع میں پی ایچ ایز قائم کر دی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں پنجاب کی ہر تحصیل میں بھی ان اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ مریم نواز نے حکام کو ہدایت کی کہ تحصیل، شہر اور گاؤں کی سطح پر مرحلہ وار شجرکاری مہمات چلائی جائیں اور پھولدار پودے لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دستیاب جگہ پر درخت اور پھول لگائے جائیں تاکہ پنجاب کا ہر شہر، قصبہ اور گاؤں سرسبز و شاداب نظر آئے۔ وزیراعلیٰ نے موسمی پھول لگانے کے لیے ماہانہ منصوبہ بندی کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع کی پی ایچ اے اپنی نرسری قائم کرے گی، جہاں شجرکاری مہمات اور موسمی پھولوں کے لیے پودے تیار کیے جائیں گے اور شہریوں کو مناسب قیمتوں پر فراہم کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ہر ضلع کی پی ایچ اے کے لیے مینیجنگ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز اور تکنیکی عملے کی بھرتیوں کی بھی منظوری دی گئی۔ مریم نواز نے پی ایچ اے افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) تیار کرنے اور ہر ضلعی اتھارٹی کے لیے وسائل کا منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لاہور کے تمام کیٹیگری سی پارکوں کی بحالی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ ہر پی ایچ اے کو شہری مناظر بہتر بنانے، پارکوں کو خوبصورت بنانے اور گرین بیلٹس بحال کرنے کے اہداف دیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ خیابانِ جناح کے ساتھ بوگن ویلیا، عطا بخش روڈ پر بانس اور دیگر سڑکوں کے کنارے املتاس کے درخت لگائے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں مختلف رنگوں کے گیندا پھولوں کی تین اقسام بھی کاشت کی جا رہی ہیں۔ مریم نواز نے پی ایچ اے فوڈ کورٹ کے ڈیزائن کی منظوری دی، جبکہ اتھارٹی کے عملے اور گاڑیوں کے لیے یکساں برانڈنگ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ حکام کے مطابق گھروں سے کام کرنے والے پی ایچ اے ملازمین کو واپس دفاتر میں حاضر ہونے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شجرکاری کے ماحول اور انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف نیکی کا کام ہے بلکہ لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔