Monday, October 19

متحدہ عرب امارات کا سعودی عرب کے ساتھ یمن کی جنگ میں دوبارہ شامل ہونے پر اتفاق

UAE Agrees with Saudi Arabia to Re-enter Yemen Conflict
ریاض، 18 اکتوبر 2026 (نوشین): متحدہ عرب امارات نے مبینہ طور پر یمن کے جنوبی علاقوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والی بعض حکومتی فورسز کی مالی معاونت دوبارہ شروع کرتے ہوئے تنازع میں پھر سے شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ یمن میں موجود ذرائع کے مطابق اس انتظام کے تحت سعودی عرب نے حوثی مخالف فورسز کو فضائی مدد فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی نے خلیجی ممالک کی حکومتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ تعاون یمن کے مستقبل کے حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کم ہونے کی ممکنہ علامت ہے، کیونکہ حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے خطے کی حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودی عرب کو روزانہ ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے، جبکہ حوثی حملوں کے باعث ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے بعض حصوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ یمن کی جنوبی فورسز، خصوصاً جائنٹ بریگیڈز، کو ماضی میں متحدہ عرب امارات نے تربیت اور مالی معاونت فراہم کی تھی اور انہیں حوثی مخالف منتشر فوجی اتحاد کی مؤثر ترین فورسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات نے جنوری میں یمن کے اندر اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں ان فورسز کی مالی معاونت بھی بند ہو گئی تھی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے جنوبی یمن کے علیحدگی پسندوں کی جانب سے علیحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کے حالیہ مطالبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ اس مجوزہ اقدام کے نتیجے میں 1967 سے 1990 کے دوران قائم شمالی اور جنوبی یمن کی سابقہ سرحدیں بحال ہو سکتی ہیں، جب دونوں الگ ریاستیں تھیں۔ مبینہ معاہدہ یمن میں حوثی پیش قدمی روکنے اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کی نئی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔