Thursday, September 24

لداخ میں ہلاکت خیز خودمختاری احتجاج کے ایک سال بعد شٹر ڈاؤن

Balochistan imposes Section 144 for 30 days amid security concerns

لیہ، 24 ستمبر 2026 (کامران راجہ): بھارتی زیر انتظام لداخ کے مرکزی شہر لیہ میں جمعرات کو گزشتہ سال خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے ہلاکت خیز احتجاج کی پہلی برسی کے موقع پر مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔ 24 ستمبر 2025 کو مظاہروں کے دوران صورتحال کشیدہ ہونے پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شٹر ڈاؤن کی اپیل لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی تھی، جس کے بعد لیہ میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور سڑکیں تقریباً ویران نظر آئیں۔ مظاہرین میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں بدھ مت کی دعائیہ تقریبات بھی منعقد کی گئیں جبکہ مقامی افراد نے مزید خودمختاری کے مطالبات دہرائے۔ لداخ میں بے چینی کا آغاز بھارت کی جانب سے 2019 میں خطے کی سابق نیم خودمختار حیثیت ختم کرکے اسے براہ راست وفاقی انتظام کے تحت لانے کے فیصلے کے بعد ہوا۔ مقامی آبادی زمین، روزگار، وسائل اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے اور بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت وسیع خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بدھ کو لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے گزشتہ سال کے تشدد کے سلسلے میں 20 افراد کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا اور اس فیصلے کو امن اور سماجی ہم آہنگی کے مفاد میں قرار دیا۔ بھارتی حکومت نے مقامی افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 85 فیصد کوٹہ مقرر کرنے اور لداخ سے باہر کے افراد کے لیے ڈومیسائل کی اہلیت 2036 تک محدود کرنے سمیت بعض اقدامات کیے ہیں، تاہم دیگر مطالبات پر مذاکرات جاری ہیں۔