
اکتوبر11, 2026 (کامران راجہ): فلسطین کی حمایت میں کھل کر آواز اٹھانے والی متعدد عالمی شہرت یافتہ شخصیات کو پیشہ ورانہ اور تجارتی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈان امیجز کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید، ریپر میکلمور، اداکارہ میلیسا بیریرا اور سوزن سارینڈن سمیت متعدد فنکاروں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھائی، جس کے بعد انہیں مختلف نوعیت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق میلیسا بیریرا کو سوشل میڈیا پر جنگ سے متعلق اظہارِ خیال کے بعد فلمی سلسلے ’’اسکریم‘‘ سے الگ کردیا گیا، جبکہ سوزن سارینڈن کو فلسطین کے حق میں ریلی سے خطاب کے بعد مبینہ طور پر اپنی ٹیلنٹ ایجنسی کی نمائندگی سے محروم ہونا پڑا۔ ریپر میکلمور کے بارے میں بھی رپورٹ کیا گیا کہ فلسطینیوں کے حق میں اظہارِ یکجہتی اور فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل سے متعلق گیت پیش کرنے کے بعد انہیں ایک میوزک ٹور سے الگ کردیا گیا۔ برطانوی میوزک جوڑی باب ولین کو گلاسٹنبری فیسٹیول میں متنازع نعروں کے بعد پرفارمنس منسوخ ہونے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آئرش ریپ گروپ نیکنیپ نے کوچیلا فیسٹیول میں اپنی سیاسی پرفارمنس کے حوالے سے سنسرشپ کے الزامات عائد کیے۔ برطانوی بینڈ میسیو اٹیک کے ارکان کی جانب سے سنگاپور میں کنسرٹ کے دوران فلسطینی پرچم دکھانے کا معاملہ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔ اسی طرح میڈیا شخصیت میا خلیفہ کو فلسطین سے متعلق بیانات کے بعد پلے بوائے کے ساتھ شراکت داری ختم ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ بیلا حدید کی اداکاری والے ایڈیڈاس کے ایک اشتہار کو بھی اسرائیل نواز گروپوں کے دباؤ کے بعد واپس لے لیا گیا، تاہم کمپنی نے بعد ازاں بیلا حدید اور دیگر متاثرہ شراکت داروں سے معذرت کی۔ رپورٹ میں اس امر کو اجاگر کیا گیا ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت اور سیاسی مؤقف کے اظہار پر بعض معروف شخصیات کو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر اور تجارتی معاہدوں کے حوالے سے مشکلات پیش آئی ہیں۔