Wednesday, October 14

صبیحہ فاروق نے لپ فلرز کی افواہوں کی تردید کردی، سوئیوں سے خوف کا انکشاف

Sabeena Farooq Denies Lip Filler Rumours, Says She Is Afraid of Needles

کراچی، 13 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): پاکستانی اداکارہ صبیحہ فاروق نے ہونٹوں کو بھرنے کے لیے کاسمیٹک فلرز استعمال کرانے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں سوئیوں اور انجیکشن سے خوف آتا ہے، جس کے باعث انہوں نے یہ عمل نہیں کروایا۔ اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے ان افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں متعدد پیغامات موصول ہوئے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے لپ فلرز کروائے ہیں۔ صبیحہ فاروق نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ طریقہ علاج نہیں اپنایا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کاسمیٹک طریقۂ کار اختیار کرنا کوئی بری بات نہیں اور لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں سوئیوں اور انجیکشن سے خوف نہ ہوتا تو وہ بھی اس طریقۂ کار پر غور کر سکتی تھیں۔ اداکارہ نے زور دیا کہ لوگوں کو دوسروں کی ظاہری شکل یا ذاتی انتخاب پر سوال اٹھانے اور تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے بیان کے بعد خوبصورتی کے معیارات اور معروف شخصیات کی ظاہری شکل و صورت پر ہونے والی بحث ایک بار پھر سامنے آئی ہے، کیونکہ معمولی تبدیلیاں بھی اکثر کاسمیٹک طریقۂ کار سے متعلق قیاس آرائیوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ صبیحہ فاروق نے 2016 میں اداکاری کا آغاز کیا اور پاکستانی ٹیلی وژن کی معروف اداکاراؤں میں اپنی جگہ بنائی۔ ڈرامہ سیریل ’’تیرے بن‘‘ میں حیا کے کردار سے انہیں وسیع شہرت ملی، تاہم اس کردار پر ہونے والی تنقید کے باعث انہیں سوشل میڈیا پر ہراسانی اور دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2023 میں انہوں نے ناظرین سے اپیل کی تھی کہ وہ اداکار اور اس کے نبھائے گئے کردار کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ بعد ازاں ڈرامہ سیریلز ’’کابلی پلاؤ‘‘ میں باربینہ اور ’’من جوگی‘‘ میں عالیہ کے کرداروں سے بھی انہوں نے اپنی پہچان مزید مضبوط کی۔ ’’کابلی پلاؤ‘‘ میں بہترین اداکاری پر انہیں لکس اسٹائل ایوارڈ 2025 میں بہترین ٹی وی اداکارہ (ناقدین کی پسند) کا ایوارڈ دیا گیا۔ اگست 2026 میں انہیں تفریح سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کے اعتراف میں سی ایل سی گلوبل 100 ویمن لیڈرز ایوارڈ 2026 کے اعزاز یافتگان میں بھی شامل کیا گیا۔ اداکاری کے علاوہ صبیحہ فاروق سوشل میڈیا پر تنقید، آن لائن رویوں اور معروف شخصیات کو درپیش دباؤ کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں۔ لپ فلرز سے متعلق حالیہ وضاحت میں بھی انہوں نے یہی مؤقف اپنایا کہ ظاہری شکل سے متعلق فیصلے ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں عوامی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔