
سیئول، 12 اکتوبر 2026 (نوشین): شمالی کوریا نے پیر کے روز اپنے مشرقی سمندری علاقے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے داغے گئے۔ ایک میزائل نے سمندر میں گرنے سے قبل 900 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جبکہ جاپان نے 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے کم از کم دو میزائلوں کا پتا چلانے کی تصدیق کی۔ جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی سمندری زون سے باہر گرے اور ان میں سے ایک نے غیر معمولی پرواز کا راستہ اختیار کیا۔ حکام کے مطابق کسی طیارے یا بحری جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ تازہ تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پیانگ یانگ جوہری صلاحیت کے حامل ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کرنے کے ساتھ میزائل تجربات اور فوجی مشقیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی کوریا نے 3 اکتوبر کو ایک ایسے ہائپرسونک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ بھی کیا تھا، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ جنوبی کوریا اور جاپان کے میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تازہ میزائل تجربات سے چند روز قبل جنوبی کوریا نے بھی مقامی طور پر تیار کردہ ہائپرسونک ہتھیار کا تجربہ کیا تھا۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے مطابق یہ ہتھیار ملک کی روایتی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ جنوبی کوریا کے فوجی حکام کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات کا مقصد اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دینا اور جنوبی کوریا کے حالیہ تجربے کا جواب دینا ہو سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی قومی سلامتی دفتر نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربات فوری طور پر بند کرے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور جزیرہ نما کوریا میں استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ جاپان نے بھی بیجنگ میں سفارتی ذرائع کے ذریعے شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں کوریاؤں کی بھاری فوجی نگرانی والی سرحد کے قریب بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں جنوبی کوریا کے تین فوجی زخمی ہونے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا کی فوج اور اقوام متحدہ کی کمان نے ان دھماکوں کا ذمہ دار شمالی کوریا کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو قرار دیا، تاہم پیانگ یانگ نے اس ذمہ داری کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے انکار جاری رکھا ہوا ہے۔ دونوں کوریاؤں کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، جبکہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات 2019 سے تعطل کا شکار ہیں۔ پیانگ یانگ کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن اپنی مخالفانہ پالیسی ترک کرے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پیشگی شرط کے طور پر شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہو۔