
سیئول، 12 ستمبر 2026 (کامران راجہ): شمالی کوریا نے ہفتے کے روز مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب وونسان کے علاقے سے کئی کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے، جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا۔ جنوبی کوریا کے مطابق میزائل مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر داغے گئے اور تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جنوبی کوریا اور امریکی حکام میزائلوں کی نوعیت اور تکنیکی خصوصیات کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے لانچ کے آغاز ہی سے معلومات کا تبادلہ کیا اور جاپان کو بھی آگاہ کیا گیا۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ فوج شمالی کوریا کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکا کے ساتھ مشترکہ دفاعی نظام کے تحت کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سیکیورٹی آفس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ صدارتی دفتر نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر بیلسٹک میزائلوں کے تجربات بند کرے اور ان اقدامات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی پیسیفک کمانڈ نے کہا کہ اسے میزائل لانچ کے بارے میں علم ہے اور وہ اتحادیوں اور شراکت داروں سے قریبی رابطے میں ہے، تاہم موجودہ جائزے کے مطابق میزائلوں سے امریکی اہلکاروں، علاقے یا اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فوجی مشقیں مکمل کیے جانے کے ایک روز بعد کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ بھی شمالی کوریا نے 10 سے زائد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں رواں سال کے آخر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی توقع ہے۔