
یارکون، 12 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد کے قریب اسکول کے مطالعاتی دورے کے دوران دھماکے کے نتیجے میں ایک لڑکا ہلاک جبکہ تقریباً 19 افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب اسرائیلی ہائی اسکول کے طلبہ علاقے میں پیدل سفر کر رہے تھے۔ حکام کو شبہ ہے کہ دھماکے کی وجہ کوئی غیر پھٹا ہوا گولہ بارود ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کاٹز نے ہلاک ہونے والے لڑکے کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق دھماکے میں تقریباً 20 افراد مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے۔ شمالی شہر معالوت ترشیحا کی بلدیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک مذہبی ہائی اسکول کے طلبہ اور عملے کے ارکان شامل ہیں، جو تفریحی دورے پر گئے ہوئے تھے۔ ہنگامی طبی امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آٹھ زخمیوں کی حالت تشویش ناک یا درمیانی نوعیت کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے امدادی کارروائیوں کے لیے اہلکار روانہ کیے، جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مدد کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر بھی علاقے کی جانب بھیجے گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے واقعے کی سنگینی کے پیش نظر اپنی طے شدہ مصروفیات منسوخ کر دیں اور صورت حال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ ان کے دفتر کے مطابق وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو جلد از جلد اسپتالوں میں منتقل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ یہ واقعہ اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، جہاں اسرائیلی فورسز لبنان میں حملے کر رہی ہیں جبکہ حزب اللہ کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً سرحد پار راکٹ داغے جاتے رہے ہیں۔