Wednesday, August 12

شام کی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو قتل اور تشدد کے مقدمات میں سزائے موت سنا دی

دمشق، 11 اگست 2026 (نوشین): شام کی ایک عدالت نے منگل کے روز معزول صدر بشار الاسد کو تقریباً 14 سالہ جنگ کے دوران سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے بشار الاسد کو منصوبہ بندی کے تحت متعدد افراد اور بچوں کے قتل، تشدد، من مانے طور پر گرفتاریوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔ یہ بشار الاسد کے خلاف پہلی عدالتی سزا ہے۔ انہیں دسمبر 2024 میں باغیوں کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے حملے کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد شام میں ان کے خاندان کی کئی دہائیوں پر محیط آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ باغی جنگجوؤں کے دارالحکومت دمشق کی جانب پیش قدمی کے دوران بشار الاسد ملک سے فرار ہو گئے تھے اور اس وقت ماسکو میں مقیم ہیں۔ شام میں 2011 میں شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی اور نقل مکانی ہوئی۔سابق حکومتی عہدیداروں کے خلاف جاری مقدمے کے دوران جج نے بشار الاسد کو ان کے دور حکومت میں ہونے والے متعدد جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ بشار الاسد کے دور میں سکیورٹی عہدیدار رہنے والے عاطف نجیب کو بھی مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔1965 میں پیدا ہونے والے بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد 2000 میں شام کے صدر بنے تھے۔ حافظ الاسد تقریباً تین دہائیوں تک شام پر حکمرانی کرتے رہے۔ بشار الاسد نے اپنے خاندان کی سیاسی بالادستی برقرار رکھی اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے، جبکہ شام اسرائیل اور امریکہ کا اہم علاقائی مخالف رہا۔ تازہ عدالتی فیصلہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔