
انقرہ، یکم اکتوبر 2026 (نوشین): شامی حکومت اور لبنانی گروپ حزب اللہ کے نمائندوں نے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ترکیہ میں خفیہ طور پر بالمشافہ مذاکرات کیے ہیں۔ ملاقات سے باخبر چھ ذرائع کے مطابق یہ دونوں دیرینہ مخالف فریقوں کے درمیان پہلی معلوم براہِ راست ملاقات تھی اور گزشتہ ماہ کم از کم ایک مرتبہ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات ترکیہ کے سکیورٹی اور خفیہ اداروں کی دعوت پر ہوئی، جس میں حزب اللہ کے نمائندوں کے علاوہ شامی انٹیلی جنس اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی۔ مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی اور باہمی سلامتی سے متعلق خدشات کو دور کرنے پر توجہ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق شام نے حزب اللہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ لبنان میں گروپ کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوجی مداخلت نہیں کرے گا، جبکہ شامی حکام نے حزب اللہ سے سرحد پار اسلحے کی اسمگلنگ روکنے اور جنوبی شام میں موجود اس کے باقی خفیہ ٹھکانوں کو ختم کرنے میں تعاون کا مطالبہ کیا۔ ایک شامی عہدیدار کے مطابق حزب اللہ نے ان مطالبات پر براہِ راست جواب نہیں دیا تاہم شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے نے کہا کہ دونوں فریقوں نے سکیورٹی معاملات پر نمایاں پیش رفت کی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور مذاکرات کے حوالے سے کسی اعلان کا منصوبہ بھی نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان ترکیہ کے ذریعے رابطہ تقریباً دو ماہ قبل شروع ہوا تھا۔ یہ مذاکرات سابق شامی صدر بشار الاسد کی 2024 کے اواخر میں معزولی کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوئے ہیں، جب دمشق نے حزب اللہ پر شام کے راستے اسلحہ منتقل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ذرائع کے مطابق ترکیہ نے خطے میں استحکام اور مذاکرات کے فروغ کی اپنی کوششوں کے تحت اس ملاقات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ حزب اللہ کے اہم سرپرست ایران نے مذاکرات میں براہِ راست شرکت نہیں کی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے تہران کے علم میں رہتے ہوئے ملاقات میں شرکت کی۔ رائٹرز آزادانہ طور پر ملاقات کے مقام اور دورانیے یا اس سے قبل یا بعد میں ہونے والی کسی دوسری ملاقات کی تصدیق نہیں کر سکا۔