
ریاض، 18 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے دوران چار ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ مصر نے سعودی قیادت کی درخواست پر مملکت کے دفاع میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ریاض، مشرقی صوبے اور ملک کے جنوبی علاقوں میں چار ڈرونز کو روک کر تباہ کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات، آئل ٹینکروں اور اہم آمدورفت کے مراکز کو مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کئی سال کے وقفے کے بعد جولائی میں یمن کا تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں مبینہ طور پر 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد مملکت میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ اگر سعودی قیادت درخواست کرے تو مصر مملکت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ السیسی نے واضح کیا کہ مصر علاقائی جنگوں میں مداخلت کا خواہاں نہیں، تاہم سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بات کسی کے خلاف جنگ یا حملہ کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ صرف دفاعی اقدامات سے متعلق ہے۔ مصر حوثی مخالف اتحاد کا حصہ ہے، تاہم یمن میں اس کا کردار براہ راست فوجی کارروائیوں کے بجائے بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے پر زیادہ مرکوز رہا ہے۔ مصر اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی طور پر قریبی تعلقات اور مضبوط تزویراتی و اقتصادی روابط قائم ہیں۔ صدر السیسی کی درخواست پر مصری پارلیمنٹ اتوار کو علاقائی صورت حال پر غور کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔ ادھر حوثی حملوں میں اضافے کے باعث متعدد غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کا سفر کرنے یا وہاں کے ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سعودی وزارت تعلیم نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریاض اور قریبی علاقے درعیہ کے طلبہ کے لیے آن لائن تعلیم کے انتظامات میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔