Monday, September 21

ریاض پر بیلسٹک میزائل ناکام، کنگ خالد ایئرپورٹ کے قریب آگ بھڑک اٹھی

Ballistic missile intercepted over Riyadh as fire breaks out near King Khalid Airport

ریاض، 20 ستمبر 2026 (کامران راجہ): یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل سعودی فضائی دفاع نے ہفتے کی صبح کامیابی سے روک کر تباہ کردیا، جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک ایندھن کے ڈپو میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔ فائر فائٹرز نے سعودی تیل کمپنی آرامکو کے لوگو والے ایندھن کے ٹینک میں لگی آگ پر قابو پالیا، جبکہ اے ایف پی کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں ایئرپورٹ کے قریب عمارتوں کے اوپر سیاہ دھویں کے بادل دکھائی دیے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے بیشہ، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سعودی فضائی دفاع نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دو فوجی کارروائیاں کیں، جن میں پہلی کارروائی ریاض میں حساس تنصیبات جبکہ دوسری ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کے خلاف کی گئی۔ سعودی حکام نے اس سے قبل رات کے وقت فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا تھا، جبکہ دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے رہائشیوں نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ فلائٹ ریڈار 24 نے کچھ دیر کے لیے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں میں شدید خلل کی نشاندہی کی، تاہم بعد میں فضائی ٹریفک معمول پر آنا شروع ہوگئی۔ امریکی محکمہ خارجہ اور خطے میں اس کے سفارت خانوں نے بھی سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تنازع تیزی سے مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ واقعہ یمن میں حوثیوں کی تازہ کارروائیوں اور حوثی زیر قبضہ علاقوں پر سعودی فضائی حملوں میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں یمن کے اندر ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ تقریباً 3 ہزار افراد سمندر کے راستے جبوتی منتقل ہوئے ہیں۔ یمن میں تنازع 2014 میں اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا، جس کے بعد مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی۔ 2022 میں فریقین کے درمیان قائم ہونے والی کمزور جنگ بندی جولائی میں ختم ہوگئی، جبکہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے کنٹرول میں اضافے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔