
تہران، 20 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے تعلقات بے مثال سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ ماسکو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باعث مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراقچی نے پیر کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد یہ بیان دیا۔ تنازع شروع ہونے کے بعد لاوروف کا یہ ایران کا پہلا دورہ تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عراقچی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے یورپ، مغربی ایشیا، لبنان، فلسطین، یوکرین اور یمن سمیت متعدد علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں اقتصادی اور جوہری تعاون کو وسعت دینے پر بھی توجہ دی گئی۔ عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی موجودہ دور کی طرح قریبی تعاون نہیں کیا۔ دورے سے قبل سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ ماسکو کی سفارتی کوششوں کا مقصد بڑے پیمانے پر جنگ کی دوبارہ واپسی کو روکنا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ یہ دورہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو اس یقین دہانی کے بعد ہوا کہ ماسکو تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس اور ایران، دونوں کو بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون برقرار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی اور جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے باوجود آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں لڑائی ختم نہیں ہو سکی۔ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔ ایران نے ان جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لاوروف کے دورے سے قبل روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ بات چیت میں اس بحران کے حل کے طریقوں پر غور کیا جائے گا جسے وزارت نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کا نتیجہ قرار دیا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق اس جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔