
تیونس، 22 اگست 2026 (غفران): تیونس کے ساحل کے قریب اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے بعد کم از کم 13 تیونسی شہری لاپتا ہوگئے، جبکہ دو افراد کو بچا لیا گیا۔ یہ اطلاع تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے سربراہ نے دی۔ تیونسی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ عبدالقبر نے بتایا کہ کشتی جمعرات کی صبح روانہ ہوئی تھی۔ بچائے گئے دو افراد میں سے ایک نے مقامی کشتی کے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ کشتی الٹنے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔ عبدالقبر کے مطابق دوسرے زندہ بچ جانے والے کی حالت تشویشناک ہے۔ تیونس ماضی میں بحیرہ روم عبور کرکے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے ایک اہم روانگی کا مقام تھا، تاہم گزشتہ دو برس کے دوران سخت کریک ڈاؤن اور بحری نگرانی میں اضافے کے باعث یہاں سے روانگی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان اقدامات کو یورپی فنڈنگ اور جدید سرحدی نگرانی کے آلات، خصوصاً اٹلی کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات، کی حمایت حاصل ہے۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق و امدادی تنظیموں نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ یورپی یونین اور تیونس کے درمیان ہجرت سے متعلق معاہدے نے تیونس میں تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف سنگین زیادتیوں کو بڑھانے اور معمول بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ تنظیموں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ تیونسی سکیورٹی فورسز سے متعلق ہجرت اور سرحدی نگرانی کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت معطل کی جائے۔ تیونس نے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ ملک کو بڑے پیمانے پر ہجرت کے بحران کا سامنا ہے۔ صدر قیس سعید نے 2023 میں کہا تھا کہ تارکین وطن کی آمد کا مقصد ملک کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔وسطی بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین ہجرت کے راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن یورپ پہنچنے کے لیے اس راستے کا استعمال کرتے ہیں اور اکثر گنجائش سے زیادہ بھری یا غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کرتے ہیں۔