انقرہ، 31 اکتوبر 2026 (نوشین): ترکیہ نے تجربہ کار سفارت کار اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے موجودہ سیکرٹری جنرل فریدون ہادی سنیرلی اوغلو کو اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، جس کی تصدیق ہفتے کے روز ایک سفارتی ذریعے نے کی۔ یہ نامزدگی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے عمل میں تعطل کے بعد سامنے آئی ہے، کیونکہ جمعہ کو سلامتی کونسل میں ہونے والی تازہ غیر رسمی رائے شماری بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ ترک سفارتی ذریعے کے مطابق صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے 30 اکتوبر کو دستخط شدہ نامزدگی کا خط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ترک میڈیا میں شائع ہونے والے خط میں صدر اردوان نے کہا کہ یہ نامزدگی مؤثر کثیرالجہتی نظام کے لیے ترکیہ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، ایسے وقت میں جب جغرافیائی و سیاسی تقسیم گہری اور ممالک کے درمیان اعتماد کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریدون ہادی سنیرلی اوغلو کو بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری میں چار دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے اور وہ ترکیہ کے وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سمیت اہم سفارتی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اردوان کے مطابق عالمی چیلنجز میں اضافے کے تناظر میں اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کا انتخاب عالمی برادری کو زیادہ پُرامن، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی جانب رہنمائی دینے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ سنیرلی اوغلو اس وقت او ایس سی ای کے سیکرٹری جنرل ہیں، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سلامتی کی تنظیم قرار دیتی ہے اور اس کے 57 رکن ممالک ہیں۔ پرتگال سے تعلق رکھنے والے موجودہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس 31 دسمبر کو اپنی دوسری پانچ سالہ مدت مکمل کر رہے ہیں۔ انتخابی طریقہ کار کے تحت کسی امیدوار کو 15 رکنی سلامتی کونسل میں کم از کم نو ووٹ حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے کسی کی جانب سے ویٹو بھی نہیں ہونا چاہیے۔ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کے باعث انتخابی عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد امیدوار کا نام تمام رکن ممالک کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
