
انقرہ، 8 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ترکیہ یمن کے ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے جمعرات کو کہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حوثی حملوں کے تناظر میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری مشاورت بھی جاری ہے۔ ہاکان فیدان نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحانہ نہیں، اور عسکری حکام ممکنہ ترک معاونت کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں فضائی دفاع، برقی جنگ اور تکنیکی معاونت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہو تو اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دینا ضروری ہے، تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ فیدان نے کہا کہ عسکری وفود سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا تعین کریں گے اور اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ترکیہ اور پاکستان کس نوعیت کی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ بدھ کو دو حکام نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ترکیہ سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لیے بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ترک حکام کے مطابق اس مرحلے پر فراہم کی جانے والی معاونت زیادہ تر دو طرفہ بنیادوں پر ہوگی کیونکہ ترک پارلیمنٹ نے ابھی مشترکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔ ہاکان فیدان نے کہا کہ معاہدے کو پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اسے جلد از جلد منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ ترکیہ، جس کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور مضبوط دفاعی صنعت ہے، سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کر چکا ہے، ریاض کی تکنیکی عسکری ضروریات پوری کرنے میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔