
اسلام آباد29 جنوری (کامران راجہ): بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح قومی سیمی کنڈکٹر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جو صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے وژن کے تحت ترتیب دی گئی۔ اس کانفرنس کا مقصد پاکستان میں سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم کے قیام کے لیے پالیسی سازوں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک کو فروغ دینا تھا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے سیمی کنڈکٹر صنعت کو پاکستان کے معاشی استحکام، ڈیجیٹل خودمختاری اور مستقبل کی افرادی قوت کی تیاری کے لیے ایک اسٹریٹجک شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی تعلیمی قیادت، صنعتی شراکت اور پالیسی ہم آہنگی کے ذریعے قومی تبدیلی میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہے اور ایک مؤثر پل کے طور پر ابھر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سیمی کنڈکٹر اہداف سعودی عرب میں جاری اقدامات سے ہم آہنگ ہیں، جو علاقائی تعاون، علمی تبادلے اور مشترکہ استعداد کار میں اضافے کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی یونیورسٹی ایک قابلِ اعتماد علمی شراکت دار کے طور پر نمایاں مقام حاصل کر رہی ہے۔
وائس پریذیڈنٹ (ریسرچ اینڈ انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم کے پائیدار قیام کے لیے طویل المدتی پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے سینٹر فار ایڈوانسڈ الیکٹرانکس اینڈ فوٹو وولٹائک انجینئرنگ کی سالانہ پورٹ فولیو رپورٹ اور یادگاری شیلڈ مہمانِ خصوصی کو پیش کی۔
کانفرنس کی مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ تھیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس بروقت قومی مکالمے کے انعقاد پر جامعہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعات کو تدریس و تحقیق کے ساتھ ساتھ قومی سمت کے تعین میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر اب قومی ترجیح بن چکا ہے اور یہ وزیر اعظم کے فلیگ شپ پروگرام اور قومی سیمی کنڈکٹر اقدام کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو اڑان پاکستان ویژن کے تحت 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے ہدف سے جڑا ہوا ہے۔
راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں تین تکنیکی پینلز منعقد ہوئے۔ پہلے پینل میں پالیسی، گورننس اور فنڈنگ پر گفتگو کی گئی، دوسرے پینل میں صنعت، روزگار کے مواقع اور عالمی انضمام پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ تیسرے پینل میں جامعات کے کردار، تحقیق، جدت اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر غور کیا گیا۔
کانفرنس میں بین الاقوامی ماہرین کے ریکارڈ شدہ پیغامات بھی شامل کیے گئے، جن میں سعودی عرب کے نیشنل سیمی کنڈکٹر حب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نوید شروانی اور کی بانی و سی ای او ڈاکٹر فرحت جہانگیر شامل تھیں، جنہوں نے عالمی تعاون، مینوفیکچرنگ، آپریشنز اور کوالٹی اشورنس کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان میں ایک مربوط سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم کے قیام کے لیے پالیسی تسلسل، صنعتی سرمایہ کاری اور تعلیمی اشتراک کو ناگزیر قرار دیا۔ آخر میں پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے بزنس انکیوبیشن سینٹر اور پروٹوکول و پبلک ریلیشنز ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔