نئی دہلی، 23 اگست 2026 (کامران راجہ): بھارت کے مشرقی ساحل کے قریب پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز اوشن ونر کے ڈوبنے کے بعد 22 لاپتا افراد کی تلاش کے لیے اتوار کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 24 افراد سوار تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق جہاز ڈوبنے کے بعد دو چینی شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔ ریسکیو کیے گئے افراد نے حکام کو بتایا کہ جمعہ کے روز جہاز ایک جانب جھک گیا اور تقریباً آٹھ منٹ میں ڈوب گیا، جس کے باعث عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔ بھارتی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل شیام جگن ناتھن نے کہا کہ عموماً 12 گھنٹے گزرنے کے بعد زندہ افراد کی تلاش کے امکانات تیزی سے کم ہوجاتے ہیں، تاہم امدادی ٹیمیں لاپتا عملے کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق لاپتا 22 افراد میں 18 چینی، میانمار کے 3 اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ بھارتی بحریہ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کوسٹ گارڈ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں معاونت کے لیے سری وجے پورم، جسے پہلے پورٹ بلیئر کہا جاتا تھا، سے کوسٹ گارڈ کے دو بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں۔ بھارتی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اوشن ونر جمعہ کو بھارت کی مشرقی بندرگاہ پارادیپ سے چین کے لیے لوہے کی خام مال لے کر روانہ ہوا تھا۔حکومتی ذرائع کے مطابق جہاز پارادیپ بندرگاہ سے تقریباً 240 ناٹیکل میل دور سمندر میں ڈوبا۔ جہاز کے ڈوبنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی، جبکہ حکام نے لاپتا عملے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔
