Monday, August 24

بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے پی ٹی اے اور گوگل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

 

PTA and Google Sign MoU to Strengthen Child Online Safety in Pakistan

اسلام آباد، 20 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور گوگل ایل ایل سی کے درمیان بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ مفاہمتی یادداشت کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں میں ڈیجیٹل آگاہی، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت پی ٹی اے اور گوگل مشترکہ طور پر چائلڈ سیفٹی پروگرام پر عملدرآمد کریں گے، جس میں آگاہی، تعلیم اور استعداد کار میں اضافے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس اقدام کے ذریعے والدین اور اساتذہ کو عملی ٹولز، وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں رہنمائی فراہم کر سکیں۔ تعاون کے تحت بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی مواد انگریزی اور مقامی زبانوں میں تیار کیا جائے گا، تعلیمی اداروں میں تربیتی پروگرامز منعقد کیے جائیں گے جبکہ ملک گیر آگاہی مہم کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو مقامی ضروریات کے مطابق آن لائن سیفٹی وسائل اور ٹیوٹوریلز تک رسائی فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارہ امتیاز نے بچوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ممبر کمپلائنس اینڈ انفورسمنٹ پی ٹی اے ڈاکٹر خاور صدیق کھوکھر نے بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام میں ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ مفاہمتی یادداشت پی ٹی اے اور گوگل کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ والدین اور اساتذہ کو بااختیار بنایا جائے، ڈیجیٹل آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور آن لائن پلیٹ فارمز کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے۔تعاون کے نتیجے میں پاکستان میں بچوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ آن لائن تحفظ کے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی اور استعداد کار کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔