Saturday, August 1

برفانی تودہ گرنے سے معروف کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما جاں بحق

اسکردو، یکم اگست 2026 (غفران): دنیا کے معروف نیپالی کوہ پیما نرمل “نمزدائی” پرجا، جنہوں نے دنیا کی 14 بلند ترین آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلند چوٹیوں کو کم ترین مدت میں سر کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں واقع براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے۔ حکام اور مہم کے منتظمین کے مطابق نرمل پرجا اور ان کے ساتھ موجود نو دیگر کوہ پیما جمعرات کے روز اس وقت لاپتا ہوگئے تھے جب تقریباً 6,600 میٹر کی بلندی پر براڈ پیک کی جانب پیش قدمی کے دوران ایک طاقتور برفانی تودہ ان پر آ گرا۔ کئی روز تک جاری رہنے والے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن، جس میں ریسکیو ٹیموں، مقامی انتظامیہ اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، کے بعد ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کر دی گئی کہ تمام دس کوہ پیما جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نرمل پرجا کی مہم کا انتظام کرنے والی کمپنی ایلیٹ ایکسپیڈ نے ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ مہم کے دیگر ارکان بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ اس مہم میں مجموعی طور پر دس کوہ پیما شامل تھے، جن کا تعلق نیپال، پاکستان، عمان، امریکہ اور چین سے تھا۔ جاں بحق ہونے والوں میں چھ نیپالی جبکہ دیگر کوہ پیماؤں کا تعلق پاکستان، عمان، امریکہ اور چین سے تھا۔ 43 سالہ نرمل پرجا، جو برطانوی اسپیشل فورسز میں گورکھا کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے، نے 2019 میں صرف چھ ماہ سے زائد عرصے میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کی غیر معمولی کامیابی کو بعد ازاں نیٹ فلکس کی معروف دستاویزی فلم “14لند ترین چوٹیاں: کچھ بھی ناممکن نہیں”  میں بھی پیش کیا گیا۔

براڈ پیک، جس کی بلندی 8,051 میٹر (26,414 فٹ) ہے، دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے اور قراقرم کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع ہونے کے باعث اسے دنیا کی مشکل ترین کوہ پیمائی مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ حکام نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیماؤں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی دشوار گزار موسمی اور جغرافیائی حالات میں سرچ آپریشن میں حصہ لینے والی ریسکیو ٹیموں کی کوششوں کو سراہا۔ یہ افسوسناک سانحہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بلند ترین پہاڑوں پر کوہ پیمائی انتہائی خطرناک عمل ہے، جہاں اچانک موسم کی تبدیلی، برفانی تودے اور دیگر قدرتی خطرات دنیا کے تجربہ کار ترین کوہ پیماؤں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔