
اسلام آباد، 18 اگست 2026 (نوشین): نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے خیبر پختونخوا کے حساس پہاڑی علاقوں میں 19 سے 22 اگست تک لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ملاکنڈ، لوئر دیر، اپر دیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، آلائی، اپر اور لوئر چترال، اپر اور لوئر کوہستان، کولائی پالس، مانسہرہ اور گلیات کے پہاڑی علاقوں کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ، چٹانیں گرنے اور ملبے کے بہاؤ کے باعث حساس پہاڑی سڑکوں پر ٹریفک عارضی یا طویل عرصے کے لیے متاثر ہوسکتی ہے جبکہ بعض راستے مکمل طور پر بند بھی ہوسکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے متعدد سڑکوں کو خاص طور پر خطرناک قرار دیا ہے، جن میں این-45 بٹ خیلہ، چکدرہ، دیر، متکنی روڈ، ایس-4 اے، دیر کی وادیوں میں ایس-16، این-90، این-95 چکدرہ، منگورہ، مدین، بحرین اور کالام کی سڑکیں شامل ہیں۔ آلائی، پوکل اور گنگوال کے راستوں کو بھی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی نشاندہی این-140 اور چترال، بونی، مستوج کوریڈور، این-45 دروش، لواری، چترال اور چترال، گرم چشمہ روڈ پر بھی کی گئی ہے۔قراقرم ہائی وے پر داسو، کومیلا، سیو، پٹن، دوبیر اور ججیال کے علاقوں کے علاوہ پالس اور کولائی تک رسائی دینے والی سڑکوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح این-15 بالاکوٹ، کاغان، ناران روٹ اور ایبٹ آباد، گلیات اور تھنڈیانی کو ملانے والی سڑکوں کو بھی تشویش والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ اور چٹانیں گرنے سے سڑکوں، پلوں، حفاظتی دیواروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ٹریفک متاثر ہوسکتی ہے اور دور دراز علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوسکتا ہے۔ اچانک لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ سے مسافروں، ڈرائیوروں اور مقامی آبادی کو بھی براہ راست خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، خصوصاً پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب رہنے والے افراد کو۔ این ای او سی نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حساس پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی کریں، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں فوری کارروائی یقینی بنائیں۔حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ حساس سڑکوں پر ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے مشینری، امدادی وسائل اور متبادل انتظامات پہلے سے دستیاب رکھے جائیں۔ این ڈی ایم اے نے عوام اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال ضرور چیک کریں مسافروں کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ، چٹانیں گرنے یا ملبے کے بہاؤ کی صورت میں متاثرہ علاقوں سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھیں اور مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔این ڈی ایم اے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسم کی صورتحال اور ممکنہ قدرتی آفات سے متعلق بروقت معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کی سرکاری ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ ایپ استعمال کریں۔