
لاہور، 21 ستمبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جاری تحقیقات کے باعث میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد رضوان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے میڈیا سے گفتگو کی اجازت طلب کی تھی، تاہم بورڈ نے ان کی درخواست دو مرتبہ مسترد کر دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد رضوان کا معاملہ اس وقت این سی سی آئی اے کے پاس زیرِ تفتیش ہے، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں عوامی طور پر بیان دینے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ محمد رضوان مبینہ طور پر اپنا مؤقف پیش کرنا، ان پر عائد الزامات کی وضاحت کرنا اور اس معاملے سے متعلق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو لکھے گئے خط کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ ذرائع کے مطابق رضوان نے اپنے مرکزی معاہدے کی شرائط کے تحت اجازت طلب کی، تاہم پی سی بی نے درخواست مسترد کر دی۔ مرکزی معاہدے کی شق 4.1 کے تحت کھلاڑیوں کو معاہدے سے متعلق معاملات پر عوامی بیان دینے سے قبل اجازت لینا ضروری ہے، جبکہ رضوان نے مبینہ طور پر شق 16 کا حوالہ دیا، جس میں پی سی بی اور کھلاڑی کے درمیان باہمی تعاون کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رضوان کا پی سی بی یا کسی دوسرے ادارے پر الزام عائد کرنے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف اور واقعات کی ترتیب واضح کرنا چاہتے تھے۔ این سی سی آئی اے کی تحقیقات مبینہ طور پر پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے دوران شروع ہوئیں اور انہیں دورے کے دوران ڈریسنگ روم سے معلومات لیک ہونے کے الزامات سے جوڑا جا رہا ہے۔ 7 ستمبر کو پی سی بی نے میڈیا رپورٹس میں نظم و ضبط اور طرز عمل سے متعلق معاملات سامنے آنے کے بعد اندرونی تادیبی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں 11 ستمبر کو محمد رضوان اور امام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔