
قاہرہ، 6 ستمبر 2026 (کامران راجہ) — ایران نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک بغیر پائلٹ امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’مکمل جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ مبینہ حملہ ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس کی فورسز نے امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے جواب میں تین ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ کیا۔ ماہرین نے ان واقعات کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں مسلسل حملوں سے عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، جبکہ جون میں ایک نازک جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مذاکرات میں تعطل کے باعث وقفے وقفے سے لڑائی جاری رہی۔ امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے ایک ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے، جس کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقے ایک بار پھر کشیدگی کا مرکز بن گئے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل تیل اب بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائپ لائنوں کے ذریعے بھی تیل کی ترسیل جاری ہے اور مجموعی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح کے تقریباً دو تہائی یا اس سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم، ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کے لیے امریکی بحریہ کی موجودگی اہم ہے، جو جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے ساتھ ممکنہ ایرانی حملوں سے بچاؤ میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ رائٹ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ دیگر ممالک بھی اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں میں امریکی بحریہ کا ساتھ دیں گے۔ دوسری جانب ایران کا جوہری پروگرام تنازع کا ایک اہم مرکز بدستور برقرار ہے، جبکہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔ سفارت کاروں کے مطابق امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور اس میں طویل عرصے تک رکاوٹ سے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔