Thursday, September 10

ایران جنگ کے باعث برکس اتحاد کا امتحان، بھارت میں سربراہی اجلاس

India Hosts BRICS Summit as Iran War Tests Bloc Unity

نئی دہلی، 10 ستمبر 2026 (نوشین): بھارت اس ہفتے 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا، جہاں ایران جنگ کے باعث رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود تنظیم کے عالمی کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور ایران 2024 میں برکس کا رکن بنا تھا۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز تقریباً بند ہوچکی ہے، جو عالمی تیل تجارت کا اہم راستہ ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کا نشانہ بننے کے بعد برکس کے رکن متحدہ عرب امارات نے اگست میں ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی لین دین معطل کردیا تھا۔ خارجہ پالیسی کے ماہرین کے مطابق برکس کے لیے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران سے متعلق ایسی زبان پر اتفاق کیا جائے جسے ایران اور متحدہ عرب امارات دونوں قبول کرسکیں اور مشترکہ اعلامیے کی راہ ہموار ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشترکہ اعلامیہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال پر نمایاں اثر ڈالنے کا امکان نہیں رکھتا، تاہم اس سے یہ پیغام ضرور جائے گا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کا فورم مغربی پابندیوں جیسی معاشی طور پر نقصان دہ پالیسیوں کے خلاف متحد ہوسکتا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، جو سات سال بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سمیت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کی نمائندگی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی جانب سے متوقع ہے۔