
اسلام آباد,مارچ 2026(کامران راجہ): او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) اور چین کے درمیان سائنسی، تکنیکی اور تعلیمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ گفتگو کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اور پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے کے منسٹر کاؤنسلر شو ہانگ تیان کے درمیان اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں ہونے والی ملاقات میں ہوئی۔ اس موقع پر سفارت خانے کے سائنس کمشنر ین شینگ شن اور کامسٹیک کی پروگرام مینیجر خزیمہ معظم بھی موجود تھیں۔
ملاقات کے دوران پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کامسٹیک کے ساتھ چین کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور جدت کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ شو ہانگ تیان نے کامسٹیک اور او آئی سی رکن ممالک کے اداروں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کے لیے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں چین کے اداروں کے ساتھ جاری مشترکہ پروگراموں کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں ہونان یونیورسٹی آف میڈیسن اور ننگبو یونیورسٹی کے ساتھ ٹیکنیشنز تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ اسی طرح ننگبو یونیورسٹی کے اشتراک سے اپلائیڈ بایومیڈیکل مصنوعی ذہانت پر 19 روزہ سرٹیفکیٹ کورس بھی منعقد کیا گیا جس میں او آئی سی ممالک کے محققین نے شرکت کی۔
اجلاس میں کامسٹیک ژیجیانگ جوائنٹ لیبارٹری کے قیام، مشترکہ تحقیق کے فروغ اور بیجنگ میں او آئی سی۔کامسٹیک آفس قائم کرنے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں 27 رکنی چینی وفد کے مجوزہ دورے پر بھی گفتگو کی گئی جس سے تربیتی پروگراموں اور تحقیقی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ملاقات کے دوران کامسٹیک کے ساتھ رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے چینی سفارت خانے سے ایک مستقل نمائندہ نامزد کرنے اور سنکیانگ میڈیکل یونیورسٹی کے تعاون سے مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل سائنس کے شعبوں میں مشترکہ تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔