Saturday, August 22

امریکی عدالت کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے تارکین وطن ویزوں کی معطلی کی پالیسی کالعدم قرار دینے کا حکم

US Court Strikes Down Immigrant Visa Suspension Policy Affecting Pakistan, 74 Other Countries

واشنگٹن، 22 اگست 2026 (غفران): امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے تارکین وطن ویزوں کے اجرا کی معطلی کی پالیسی کالعدم قرار دے دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔ مین ہٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے جنوری میں محکمہ خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تارکین وطن ویزوں کی قونصلر افسران کے ذریعے کارروائی سے متعلق وفاقی امیگریشن قوانین سے متصادم ہے۔ ویزا معطلی کی پالیسی سے جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بنگلہ دیش، لاطینی امریکا میں برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے، جبکہ بلقان میں بوسنیا اور البانیہ سمیت افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے متعدد ممالک کے شہری متاثر ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ویزوں کی معطلی کا جواز پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ متاثرہ ممالک کے درخواست گزاروں کے امریکا میں سرکاری وسائل پر انحصار کرنے اور ’پبلک چارج‘ بننے کا خطرہ زیادہ ہے۔ جج ورگاس نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی قومیت کی بنیاد پر تارک وطن ویزا جاری کرنے پر مجموعی پابندی قونصلر ویزا کارروائی سے متعلق قانونی نظام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ فیصلہ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، جن میں کیتھولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک اور افریکن کمیونٹیز ٹوگیدر شامل ہیں، کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں سامنے آیا۔ مقدمے میں متاثرہ ویزا درخواست گزاروں اور ان امریکی شہریوں نے بھی شرکت کی تھی جو متعلقہ ممالک سے اپنے خاندان کے افراد کے لیے ویزا اسپانسر کر رہے تھے۔ محکمہ خارجہ نے فوری طور پر عدالتی فیصلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ ان اقدامات کو ملکی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیتی رہی ہے، جبکہ حقوق کی تنظیموں نے بعض امیگریشن اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے قانونی عمل کے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔