Tuesday, November 3

امریکا کی میزبانی میں یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ہوں گے

US to Host Ukraine-Russia Peace Talks in Abu Dhabi on November 10-11

اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (کامران راجہ): امریکا نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کا نیا دور 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق مذاکرات میں جنگ کے خاتمے، جنگ کے بعد سیکیورٹی معاہدوں، کشیدگی میں کمی اور انسانی ہمدردی کے اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے جیرڈ کشنر بھی اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ امریکی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے سہ فریقی مذاکرات کے نئے دور پر رضامندی کے بعد سامنے آئی ہے، جنہوں نے دو ہفتے قبل سینٹ پیٹرزبرگ میں اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کی تھی۔ ابوظہبی مذاکرات سے قبل امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے برسلز میں فرانس، جرمنی، برطانیہ، یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں، یورپ کے مستقبل کے سیکیورٹی نظام اور یوکرین کی تعمیر نو کے لیے مالی معاونت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم، ماسکو اور کیف کے درمیان علاقائی کنٹرول اور جنگ کے بعد سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔ روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین ان علاقوں سے دستبردار ہو جنہیں ماسکو نے اپنے ساتھ ضم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ یوکرین نے کسی بھی علاقائی رعایت کو مسترد کرتے ہوئے مستقبل میں روسی حملے سے تحفظ کے لیے ٹھوس سیکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ روس نے یوکرین کی فوجی صلاحیتوں اور نیٹو کے ساتھ اس کے مستقبل کے تعلقات پر پابندیاں عائد کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے، جسے کیف نے مسترد کردیا ہے۔ امریکا کی ثالثی میں آخری باضابطہ سہ فریقی امن مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، تاہم بعد کی سفارتی کوششیں کسی بڑی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکیں۔ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد یہ تنازع دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی جنگ بن گیا۔ ابوظہبی میں ہونے والے آئندہ مذاکرات سے یہ اندازہ ہوگا کہ آیا امریکا کی نئی سفارتی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کرسکتی ہیں یا نہیں۔