
مسقط، 22 اگست 2026 (نوشین): امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے لیے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ایک بار پھر مشکل ہوگیا ہے۔ مسقط امریکا کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھنے کے ساتھ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور سفارتی روابط بھی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر عمان نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی تو واشنگٹن عمان کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں، جبکہ عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات کے حوالے سے ایران کے ساتھ الگ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان پہلے ایک مفاہمت ہوئی تھی جس کے تحت عمان کو آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا تھے۔ تاہم معاہدے کی تشریح پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کے باعث یہ مفاہمت ناکام ہوگئی۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد 17 جون کو طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے ایک عبوری فریم ورک فراہم کرنا اور طویل مدتی جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم دونوں جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان وسیع تر مفاہمت کے خاتمے کے بعد یہ مفاہمت پیر کو ختم ہوگئی۔ تنازع کا بنیادی مرکز آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں کی تشریح تھی۔ ایران کا مؤقف تھا کہ معاہدے میں پورے آبنائے کے انتظام کا اس کا حق تسلیم کیا گیا ہے، جبکہ واشنگٹن کے مطابق ایران کو آبنائے میں آزادانہ بحری آمدورفت کی ضمانت دینا اور تزویراتی آبی گزرگاہوں تک رسائی کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا تھا۔ عمان آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ مشترکہ حیثیت رکھتا ہے اور تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا تھا کہ مسقط اور تہران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک ’’سمجھوتے‘‘ پر پہنچ گئے ہیں اور مشترکہ بیان کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے امریکا اور عمان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عمان میں سابق امریکی سفیر مارک سیورز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہونا فطری ہے، تاہم اس نوعیت کی دھمکی پہلے بھی دی جا چکی ہے۔ مئی کے اواخر میں بھی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ عمان یا کوئی اور ملک آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرے گا اور اسے بین الاقوامی پانی قرار دیا تھا۔عمان کی موجودہ صورتحال اس مشکل سفارتی توازن کی عکاسی کرتی ہے جس میں مسقط کو واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے، تہران کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھنے اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کرنا پڑ رہی ہے۔