
اسلام آباد، 11 اگست 2026 (غفران): وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کسی مفاہمت یا معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جبکہ حالیہ پیش رفت سے ممکنہ امن معاہدے کی جانب سفارتی کوششوں میں دوبارہ تیزی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ بلومبرگ نیوز کو اسلام آباد میں انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو تین روز کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی انتظام یا معاہدے کے قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات ایک بار پھر امن انتظام یا معاہدے کے حق میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ بیان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ عمان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان اور قطر بھی کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات یا حل ہونے والے معاملات کی وضاحت نہیں کی، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن معاہدہ پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ اپنے روابط کے ذریعے کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار سفارتی حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی سطح پر اہم تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جبکہ طویل کشیدگی سے خطے کو سکیورٹی اور معاشی خدشات کا بھی سامنا ہے۔ حالیہ سفارتی پیش رفت سے علاقائی کشیدگی میں کمی اور استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔