
یریوان، 31 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): آرمینیا میں اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق سربراہی اجلاس میں تقریباً 200 ممالک نے طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد معاہدوں پر اتفاق کرتے ہوئے قدرتی ماحول کے تحفظ کے عالمی اہداف کو دوبارہ درست سمت میں لانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم اہم ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں محدود پیش رفت پر اجلاس کے نتائج کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یریوان میں منعقدہ کوپ 17 سربراہی اجلاس کے شرکا نے ہفتے کی صبح تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دو اہم دستاویزات کی منظوری دی، جن کا مقصد 2030 تک قدرتی ماحول کی تباہی روکنے اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو واپس پلٹنے کے عالمی عزم کو بحال کرنا ہے۔ اس عالمی فریم ورک کے تحت زمین اور سمندروں کے 30 فیصد حصے کا تحفظ، آلودگی اور حملہ آور انواع کی روک تھام اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مالی معاونت میں اضافہ شامل ہے، تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کوششیں ان اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ہیں۔ کوپ 17 کے صدر ہامبردزوم ماتے ووسیان نے معاہدوں کی منظوری کا خیرمقدم کیا، جبکہ فرانس کی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مونیک باربو نے کہا کہ اجلاس کے نتائج قدرتی دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اجلاس میں ضائع ہونے والے مواقع نے حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نمٹنے کی کوششوں کو سست کر دیا ہے اور قدرتی ماحول طویل مذاکرات کا انتظار نہیں کر سکتا۔ ماحولیاتی تنظیموں نے بعض کمزوریوں کے باوجود فیصلوں کو پیش رفت قرار دیا، تاہم نقصان دہ سبسڈیز کے معاملے پر طے پانے والی زبان کو کمزور قرار دیا گیا۔
اجلاس میں فوسل فیول کی پیداوار، صنعتی پیمانے پر زراعت اور حد سے زیادہ ماہی گیری جیسی سرگرمیوں کو فروغ دینے والی مالی مراعات پر بھی بحث ہوئی، جنہیں ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ گرین پیس انٹرنیشنل کے مطابق حتمی فیصلوں میں الفاظ کمزور ہونے کے باوجود نقصان دہ مالی مراعات کے خاتمے کے لیے اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے۔ سائنسی شواہد پر اختلافات نے بھی مذاکرات کو متاثر کیا، جہاں متعدد ممالک پر اہم سائنسی رپورٹس کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ سوئس مذاکرات کار گیبریلا بلیٹر نے درجنوں ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے سائنسی نتائج کو سیاسی بنیادوں پر چیلنج کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سائنس کو سیاسی مذاکرات کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بھی اجلاس میں اختلاف کا اہم نکتہ رہی، خصوصاً چین سمیت ابھرتی ہوئی امیر معیشتوں سے عالمی تحفظِ حیاتیاتی تنوع کے لیے مالی تعاون میں حصہ ڈالنے کے مطالبے پر بحث ہوئی۔ ایک مسودے میں ترقی یافتہ ممالک کے روایتی عطیہ دہندگان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی رضاکارانہ طور پر تحفظاتی فنڈنگ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ تاہم کمپنیوں سے اربوں ڈالر کے عطیات حاصل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے قائم کردہ کیلی فنڈ سے متعلق اہم فیصلے طے نہ ہو سکے۔ ماحولیاتی کارکنوں نے خبردار کیا کہ ضروری فیصلوں کو مزید دو سال کے لیے مؤخر کرنے سے فنڈ کے خالی رہنے کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ 2028 میں اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق آئندہ سربراہی اجلاس کی میزبانی ایک خفیہ ووٹنگ کے بعد ایکواڈور کرے گا، جس نے پاناما کو شکست دی۔