Monday, November 2

اسلحے کی ترسیل کے خلاف 22 ممالک کی 113 بندرگاہوں پر مزدوروں کی ہڑتال کا اعلان

اسلحے کی ترسیل کے خلاف 22 ممالک کی 113 بندرگاہوں پر مزدوروں کی ہڑتال کا اعلان

اسلام آباد، 30 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): دنیا کے 22 ممالک میں بندرگاہوں کے مزدور جمعہ کو جنگوں اور اسلحے کی ترسیل کے لیے بندرگاہوں کے استعمال کے خلاف مشترکہ ہڑتال کریں گے، منتظمین کے مطابق اس احتجاج کے نتیجے میں بحیرہ روم کی 40 فیصد سے زائد مال برداری متاثر ہونے اور دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی تجارتی ترسیل میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔ ہڑتال کا آغاز اٹلی، فرانس، یونان، اسپین کے علاقے باسک، ترکی اور مراکش کی بندرگاہوں کے مزدوروں کی یونینوں نے کیا تھا، جس کی اب 113 بندرگاہوں میں سرگرم 25 سے زائد مزدور تنظیموں نے حمایت کردی ہے۔ احتجاج کے باعث یورپ اور دیگر خطوں کی اہم بندرگاہوں، جن میں جرمنی کا ہیمبرگ، اسپین کا ویلنسیا اور الجیسیراس، فرانس کا لی ہاور، یونان کا پیرائس اور اٹلی کا جینوا شامل ہیں، متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ مراکش کی ٹینجیر میڈ اور بھارت کی نہوا شیوا بندرگاہ بھی احتجاج کی زد میں آسکتی ہیں۔ تاہم ہڑتال میں شریک ہونے والے مزدوروں کی تعداد اور سرگرمیوں میں تعطل کی شدت کے بارے میں تاحال واضح صورتحال سامنے نہیں آئی۔ جینوا بندرگاہ کے ترجمان نے محدود اثرات کی توقع ظاہر کی ہے، جبکہ یونان کی پیرائس بندرگاہ نے جزائر کے لیے فیری سروس متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ جرمنی کی ورڈی، آئرلینڈ کی بڑی مزدور تنظیم ایس آئی پی ٹی یو، ڈنمارک کی تھری ایف اور فرانس کی سی جی ٹی پورٹس ایٹ ڈاکس سمیت متعدد تنظیموں نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ منتظمین کے مطابق بھارت کی تقریباً ایک درجن بندرگاہوں پر بھی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، جہاں واٹر ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن آف انڈیا نے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ فلسطین کے حامی گروپ گلوبل صمود فلوٹیلا نے بھی ہڑتال کی حمایت میں سمندر میں مربوط اور حکمت عملی پر مبنی سرگرمیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اٹلی کی مزدور تنظیم یو ایس بی نے اسی روز 24 گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے، جس کے تحت 40 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ یونان میں بندرگاہوں کے مزدور، انجینئرز اور بحری عملہ بھی ہڑتال میں شریک ہوگا، جس کے باعث ملک بھر کی بندرگاہوں پر فیری سروسز معطل رہنے کا امکان ہے۔ یونان کی سب سے بڑی بندرگاہ پیرائس کے مزدوروں نے کہا ہے کہ وہ جنگ سے متاثرہ عوام کے ساتھ یکجہتی اور امن کا پیغام دینے کے لیے صبح 8 سے 11 بجے جی ایم ٹی تک کام بند رکھیں گے۔