Saturday, September 26

اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں کے خلاف سخت پالیسی کا عندیہ

Government Signals Tough Policy Against Protests and Sit-Ins in Islamabad

اسلام آباد، 26 ستمبر 2026 (نوشین): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ سیاسی گروہوں کو احتجاج کے لیے اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال کی صورت میں 9 مئی کے بعد پارٹی کو فراہم کی جانے والی سہولیات واپس لے لی جائیں گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ معطل کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں عزم ہے تو لانگ مارچ کر کے دکھائے۔ عطا اللہ تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کی سہولت کاری کر رہی ہے اور صوبے کے وزیراعلیٰ سیاسی رہنما کے بجائے ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر جیسا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ غیر قانونی کان کنی کے ذریعے عسکریت پسندوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔