Monday, October 19

اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ، غزہ جنگ پر احتجاج

Delegates from 10 Countries Walk Out During Israeli President’s Address at CICA Summit

باکو، 17 اکتوبر 2026 (غفران): آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیائی ممالک کی تنظیم کانفرنس آن انٹرایکشن اینڈ کانفیڈنس بلڈنگ میئرز ان ایشیا (سیکا) کے سربراہی اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے خطاب پر 10 ممالک کے مندوبین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطین انفارمیشن سینٹر نے بتایا کہ اسرائیلی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے نمائندوں نے اجلاس کے ہال سے باہر نکل کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ یہ اقدام غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیلی عہدیدار کی شرکت پر شدید سیاسی مخالفت اور ناراضی کا اظہار تھا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ان کا وفد بھی خطاب شروع ہوتے ہی اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر چلا گیا، جبکہ دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی احتجاجاً اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ آذربائیجان سیکا کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ سیکا 28 ممالک پر مشتمل ایک علاقائی فورم ہے، جس کا مقصد ایشیائی ریاستوں کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے رکن ممالک ایشیا کے تقریباً 90 فیصد رقبے اور دنیا کی نصف سے زائد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ترکیہ سیکا کے بانی ارکان میں شامل ہے اور اس نے 2010 میں استنبول میں تنظیم کے تیسرے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی، جبکہ 2010 سے 2014 تک تنظیم کی گردشی صدارت بھی سنبھالی۔ مندوبین کا واک آؤٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے باعث اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مکانات، ہسپتالوں، اسکولوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انسانی امداد اور طبی سامان کی ترسیل پر پابندیوں نے بھی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات پر اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں قانونی کارروائیوں اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن میں غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے خلاف مبینہ مظالم کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔