
اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026(غفران): اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کا انتخابی اتحاد بدھ کے روز اہم عام انتخابات میں اپوزیشن اتحاد سے آگے رہا، تاہم 66 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد نے 120 رکنی پارلیمان میں 54 نشستیں حاصل کیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں اور عرب جماعتوں نے 18 نشستیں حاصل کیں۔ ووٹوں کی گنتی جاری رہنے کے باعث نتائج میں تبدیلی کا امکان ہے۔ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جہاں اسرائیلی عوام نے ملک کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کی سیاسی پالیسیوں پر اپنا فیصلہ سنایا۔ نیتن یاہو کی حکومت دائیں بازو کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہی ہے اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد مختلف فوجی کارروائیاں بھی کرتی رہی ہے۔ نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں نے حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ انتخابی جائزوں میں دونوں دھڑوں کے تقریباً 51، 51 نشستیں حاصل کرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، جو پارلیمانی اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم تھیں۔ عرب اسرائیلی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے حامیوں نے نیتن یاہو کے سیاسی ایجنڈے کی مخالفت میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق آئزن کوٹ کا اتحاد عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر اکثریت حاصل کر سکتا ہے، تاہم انتخابی مہم کے دوران ان کے اتحاد کے کئی ارکان نے اس طرح کے سیاسی تعاون پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اسرائیل کی اہم بائیں بازو کی جماعت کے سربراہ اور آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل یائر گولان نے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب نیتن یاہو کی جانب سے یہودیوں اور عربوں کے ووٹوں کے درمیان مبینہ نسل پرستانہ تقسیم قبول نہیں کرنی چاہیے۔ حکومت سازی کا حتمی فیصلہ ووٹوں کی مکمل گنتی اور اس کے بعد ہونے والے اتحادی مذاکرات پر منحصر ہوگا۔