Tuesday, November 3

اسحاق ڈار کا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ، جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات

Dar Reaffirms Government’s Commitment to Public Relief in Meeting with JI Delegation

اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (غفران): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے طبقے پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں وفد سے ملاقات کی، جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، توانائی پالیسی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے عام آدمی کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے قابل عمل تجاویز پر بات چیت کی اور توانائی کی قیمتوں اور عوامی ریلیف کے حوالے سے آئندہ دنوں میں مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جبکہ قومی معاشی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور تعاون ضروری ہے۔ یہ ملاقات 27 اکتوبر کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تناظر میں ہوئی جس کے تحت پٹرول ریلیف اسکیم میں توسیع اور پٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی سے متعلق سفارشات تیار کرنے کے لیے چھ رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین نمائندے شامل ہیں، جو وزیراعظم کی موجودہ فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو اس سے فائدہ پہنچانے کے لیے تجاویز مرتب کریں گے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خزانہ اور اسپیشل سیکریٹری پٹرولیم بھی شریک تھے۔ جماعت اسلامی گزشتہ کئی ماہ سے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت سے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو خاطر خواہ ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی اس سے قبل حکومت کو چھ تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔ مذاکرات کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان معاملہ تاحال حتمی طور پر طے نہیں ہوسکا۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے ساتھ احتجاج بھی جاری رہے گا، جبکہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے اور عوام کو مؤثر ریلیف فراہم نہ کرنے کی صورت میں جماعت اسلامی نے نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔