
ڈارون، 15 اگست 2026 (نوشین): بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں تاریخی فتح کی جانب ایک اور اہم قدم بڑھا لیا، جب اسپنر مہدی حسن میراز نے تیسرے روز اسٹیو اسمتھ کو آؤٹ کرکے آسٹریلیا کو دوسری اننگز میں 161 رنز پر 4 وکٹوں تک محدود کردیا۔کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کے اسکور سے مزید 67 رنز کا خسارہ تھا. کیمرون گرین 43 جبکہ ایلکس کیری 19 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔بنگلہ دیش کی ٹیم کھانے کے وقفے کے کچھ دیر بعد 426 رنز پر آؤٹ ہوگئی، تاہم اس کے گیند بازوں نے شاندار جواب دیتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مشکلات سے دوچار کردیا۔ پہلی اننگز میں کیریئر کی بہترین 6 وکٹیں 55 رنز کے عوض حاصل کرنے والے حسن محمود نے آسٹریلیا کے دونوں اوپنرز کو سستے میں پویلین بھیج دیا۔ جیک ویدرالڈ بغیر کوئی رن بنائے جبکہ ٹریوس ہیڈ 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے گیند کو کھیلنے کی کوشش میں اپنے ہی اسٹمپس اڑا دیے۔اس کے بعد مارنس لبوشین اور اسٹیو اسمتھ نے آسٹریلوی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ لبوشین 31 رنز بنانے کے بعد بائیں ہاتھ کے اسپنر تیج الاسلام کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
اسٹیو اسمتھ بھی محتاط انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے، تاہم 122 کے مجموعی اسکور پر مہدی حسن میراز نے اہم وکٹ حاصل کرلی۔ اسمتھ نے گیند کو کھیلنے کی کوشش کی تو گیند بیٹ کا کنارہ لیتی ہوئی سیدھی بولر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔اس سے قبل مہدی حسن میراز نے بلے سے بھی اہم کردار ادا کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں نصف سنچری اسکور کی اور ٹیم کو بڑا مجموعہ بنانے میں مدد دی۔بنگلہ دیش نے ٹیسٹ سے قبل اپنے واحد وارم اپ میچ میں کرکٹ آسٹریلیا الیون کے ہاتھوں بھاری شکست کا سامنا کیا تھا، جبکہ دوسری اننگز میں پوری ٹیم صرف 54 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ اسی وجہ سے آسٹریلیا کو ٹیسٹ میں آسان فتح کا مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔تاہم بنگلہ دیش نے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے روز آسٹریلیا کو صرف 198 رنز پر آؤٹ کیا اور اس کے بعد بیٹنگ میں بھی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے میزبان ٹیم کے گیند بازوں کو 138 اوورز تک میدان میں مصروف رکھا۔مہدی حسن نے صبح کے سیشن میں نچلے نمبروں کے بلے بازوں کو بہترین انداز میں سہارا دیتے ہوئے آسٹریلوی بولرز کو مزید پریشان کیا اور بنگلہ دیش کو ایک مضبوط پوزیشن تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔آسٹریلیا اب بھی خسارے میں ہے اور اس کی چھ وکٹیں باقی ہیں۔ ایسے میں بنگلہ دیش چوتھے روز ایک یادگار اور تاریخی ٹیسٹ فتح حاصل کرنے کے مضبوط امکانات کے ساتھ میدان میں اترے گا۔