تہران، 23 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز میں ایرانی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو امریکی فوجی تحفظ فراہم کرنا غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے جا سکتے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کی بحری افواج نے خلیج میں تیل کی منتقلی میں ملوث چار جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا اور انہیں آگ لگا دی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی ترسیل کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں تنازع سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے مارچ سے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں اس آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس سے علاقائی سلامتی، سمندری نقل و حمل اور عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
