Monday, August 17

کشنر کی غزہ منصوبے پر حماس سے مذاکرات کے بعد نیتن یاہو سے ملاقات

کشنر کی غزہ منصوبے پر حماس سے مذاکرات کے بعد نیتن یاہو سے ملاقات

یروشلم، 17 اگست، 2026 (کامران) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر نے پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس کا مقصد غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کرنا ہے، جسے اسرائیل نے تاحال مسترد کر رکھا ہے۔یہ ملاقات حماس کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے تازہ ترین مرحلے کی حمایت کے دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔ تاہم نیتن یاہو اس منصوبے کی حمایت سے انکار کر چکے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس بات کی ضمانت ہونی چاہیے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا۔سفارتی ذرائع نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ کشنر اور نیتن یاہو کی ملاقات پیر کی صبح یروشلم میں شروع ہوئی۔ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کو مصر کے بحیرہ روم کے ساحلی شہر العریش کے قریب واقع علاقے میں حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق کشنر نے حماس سے اپنے ہتھیار چھوڑنے کی تصدیق کرنے اور مستقبل میں غزہ کے انتظام میں کسی بھی کردار سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔نیتن یاہو کی کشنر کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات متوقع تھی۔ کشنر کے علاوہ ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف بھی ملاقات میں شریک تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، جو بورڈ آف پیس کے ایک سینئر عہدیدار ہیں، بھی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔حماس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تنظیم نے کشنر کو آگاہ کیا ہے کہ وہ غزہ منصوبے پر قائم ہے اور چاہتی ہے کہ امریکا نیتن یاہو پر دباؤ ڈالے۔ حماس کے عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت پر معاہدے کے طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اب اس معاہدے کے حوالے سے اسرائیل کے مؤقف پر امریکی انتظامیہ کے جواب کی منتظر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت حماس کے ساتھ براہِ راست رابطوں میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے لیے مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔