Friday, September 11

چین میں پاکستانی وفد کی جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے مواقع کا جائزہ

Pakistani Delegates at CIFTIS 2026 Explore China’s High-Tech Capabilities for National Modernization

بیجنگ، 11 ستمبر 2026 (کامران راجہ): چین میں جاری 13ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ اِن سروسز (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) میں دو درجن سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور بڑی تعداد میں پاکستانی ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جس سے چین کے بڑھتے ہوئے سروسز سیکٹر کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور کاروباری تعاون کے نئے مواقع اجاگر ہوئے ہیں۔ پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی کے مطابق 11 ستمبر کو سی آئی ایف ٹی آئی ایس کے ایک اہم اجلاس میں پاکستان اور چین کی 75 سے زائد کمپنیاں شرکت کریں گی جہاں شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پویلین ان روابط کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے اور پاکستان کاروبار کے لیے کھلا ہے۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹلائزیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان یہ میلہ پاکستانی اسٹیک ہولڈرز کو مصنوعی ذہانت، ماحول دوست لاجسٹکس اور جدید تجارتی سہولت کاری سمیت چین کی جدید ٹیکنالوجی سے عملی طور پر استفادہ کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی مسابقت میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والی ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی (ای پی زیڈ اے) کے لیے بنیادی مقصد ملکی برآمدی صنعتوں کو جدید صلاحیتوں سے لیس کرنا ہے تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکیں۔ ای پی زیڈ اے کے انویسٹمنٹ پروموشن ڈیپارٹمنٹ میں صنعتکاروں کی سہولت کار دائم داراب صدیقی نے کہا کہ سی آئی ایف ٹی آئی ایس صنعتکاروں کے لیے خدمات کو بہتر بنانے کے طریقوں سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک غیر معمولی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان بامعنی تعاون کو فروغ دے رہا ہے اور پاکستانی صنعتوں کے لیے درکار جدید انفراسٹرکچر سے براہ راست آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں کو مستقبل کی ضروریات اور جدید ٹیکنالوجیز سے متعارف کرانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت صنعتی پیداوار اور تجارت سے متعلق خدمات کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے، خصوصاً کوالٹی کنٹرول، اسمارٹ گوداموں اور سپلائی چین کی نگرانی میں اس کا استعمال انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے سی آئی ایف ٹی آئی ایس کے انتظامی ڈھانچے کو بھی سراہا اور کہا کہ آئی ٹی سیکشنز، خصوصی ملکی زونز اور بین الاقوامی پویلینز پر مشتمل کلسٹر فارمیٹ بین الاقوامی معیار کی نمائش کے انتظام کی بہترین مثال ہے۔ نجی شعبے کے نمائندوں نے بھی چین کی محنت پر مبنی پیداوار سے جدید ٹیکنالوجی کی قیادت تک منتقلی کو پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی کے لیے اہم مثال قرار دیا۔ پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور ٹیکس کیم کارپوریشن کے سربراہ سلیم ولی محمد نے کہا کہ پاکستانی صنعتی شعبے چینی مہارت سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بالخصوص جدید تجارتی خدمات، کیمیکل لاجسٹکس اور جدید مواد کی ترسیل کے شعبوں میں۔ اوبور ڈویلپمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وائس چیئرمین شاہد فیروز، جو 1978 سے باقاعدگی سے چین کا دورہ کرتے رہے ہیں، نے کہا کہ چین کی مسلسل پالیسی توجہ کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت، نئی توانائی کی گاڑیوں اور ذہین مینوفیکچرنگ سمیت جدید شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے چین کے ہائی ٹیک ماحولیاتی نظام کے ساتھ دوطرفہ سروس فریم ورک کے ذریعے تجارتی روابط مضبوط کرنا صنعتی ترقی کو تیز کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور پائیدار تجارتی توازن کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔