
پیرو، 2 اگست 2026 (نوشین): پیرو کے عالمی شہرت یافتہ نازکا لائنز آثارِ قدیمہ کے مقام کے قریب ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ ہفتے کے روز گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ پیرو کی پولیس کے مطابق طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بجے پسکو ایئرپورٹ سے نازکا لائنز کے فضائی نظارے کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد لیما سے تقریباً 240 کلومیٹر جنوب میں واقع وسٹا الیگری ضلع کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔ پولیس میجر جارج آندراڈے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 11 غیر ملکی سیاح اور عملے کے دو ارکان شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حادثہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کے باعث کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔ امدادی ٹیموں نے ابتدائی کارروائی کے دوران ملبے سے چار لاشیں نکال لی ہیں۔
پیرو کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقاتی حکام اور امدادی اہلکار جائے حادثہ پر شواہد اکٹھے کر رہے ہیں تاکہ حادثے کے اسباب کا تعین کیا جا سکے۔ پیرو کی وزارتِ خارجہ و سیاحت نے تصدیق کی ہے کہ تمام 11 مسافر غیر ملکی شہری تھے اور متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں سے رابطہ کرکے ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق افراد میں سات اطالوی، دو جرمن اور دو ہسپانوی سیاح شامل ہیں۔ وسٹا الیگری کی میونسپل انتظامیہ کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرواز کے دوران طیارے کو ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ گر کر تباہ ہو گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ زمین سے ٹکراتے ہی طیارہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ایروڈیانا کمپنی چلا رہی تھی، جو نازکا لائنز کے فضائی نظارے کے لیے سیاحتی پروازیں فراہم کرتی ہے۔ نازکا لائنز صحرائی علاقے میں 500 قبل مسیح سے 500 عیسوی کے درمیان بنائے گئے دیوقامت نقش و نگار پر مشتمل ہیں، جن میں مختلف جیومیٹریائی اشکال اور جانوروں کی تصاویر شامل ہیں۔ ان پراسرار نقشوں کو پیرو کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ یونیسکو نے 1994 میں انہیں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔ ایروڈیانا نے کہا ہے کہ حادثے کے حوالے سے مزید معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔ یہ واقعہ نازکا لائنز کے سیاحتی فضائی دوروں کے دوران پیش آنے والے مہلک حادثات کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل 2022 میں ایک ایسے ہی طیارہ حادثے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2010 میں ایئر ناسکا کے ایک طیارے کے حادثے میں چار برطانوی سیاحوں سمیت عملے کے دو پیروی ارکان جان کی بازی ہار گئے تھے۔ حکام نے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے، جبکہ امدادی اور لاشوں کی بازیابی کا عمل جاری ہے۔