لندن، 21 اگست 2026 (نو شین) — برطانوی شہزادہ ہیری اور چھ دیگر معروف مدعیان، جن میں گلوکار ایلٹن جان بھی شامل ہیں، جمعہ کو معلوم کریں گے کہ ڈیلی میل اخبار کے ناشر کو ناکام پرائیویسی کیس کے بعد انہیں ابتدائی طور پر کتنی رقم ادا کرنا ہوگی۔ مدعیان گزشتہ ماہ لندن ہائی کورٹ میں مقدمہ ہار گئے تھے، جس میں انہوں نے ڈیلی میل کے ناشر ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ پر فون ہیکنگ سمیت غیر قانونی طریقوں اور ان کی نجی زندگی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے نجی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ساتوں مدعیان کو اب ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے قانونی اخراجات میں اپنی ذمہ داری کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا، جو مبینہ طور پر تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ پاؤنڈ (4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مدعیان کے پاس اس رقم کے تقریباً نصف کے لیے انشورنس موجود ہے۔جسٹس میتھیو نکولن جمعہ کو دوپہر 2 بجے تحریری فیصلہ جاری کریں گے، جس میں مقدمے کے مالی اثرات کی وضاحت کی جائے گی۔ ابتدائی ادائیگی مبینہ طور پر 1 کروڑ پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے عبوری ادائیگی کے طور پر 99 لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم طلب کی ہے، جبکہ مدعیان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ یہ ادائیگی 79 لاکھ پاؤنڈ سے کچھ زیادہ ہونی چاہیے۔
11 ہفتوں تک جاری رہنے والی سماعت 7 جولائی کو اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اس موقع پر جسٹس نکولن نے قرار دیا تھا کہ الزامات کی حمایت میں شواہد ناکافی ہیں اور یہ امکان بھی موجود ہے کہ اخبار کی بعض رپورٹس قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی تھیں۔مقدمے کے دیگر معروف مدعیان میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکن ڈورین لارنس، جن کے بیٹے اسٹیفن لارنس کو 1993 میں قتل کر دیا گیا تھا، ایلٹن جان کے فلم پروڈیوسر شوہر ڈیوڈ فرنیش، اداکارائیں سیڈی فراسٹ اور لز ہرلی، اور سیاست دان سائمن ہیوز شامل تھے۔ یہ فیصلہ ان رپورٹس کے چند روز بعد سامنے آ رہا ہے کہ پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل رواں ماہ کے آخر میں برطانیہ واپس منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس چھ سال سے زائد عرصہ قبل شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے بعد کیلیفورنیا منتقل ہو گئے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف ہیری کی ناکامی برطانوی ٹیبلائڈ اخبارات کے خلاف ان کی وسیع قانونی مہم کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 2023 میں انہوں نے ڈیلی مرر کے ناشر کے خلاف مقدمہ جیتا تھا، جس میں جج نے فون ہیکنگ کو ’’وسیع پیمانے پر اور معمول کا حصہ‘‘ قرار دیا تھا۔ گزشتہ سال روپرٹ مرڈوک کے برطانوی اخبار دی سن نے بھی ہیری کی نجی زندگی میں کئی سال تک مداخلت کرنے پر معذرت کی تھی اور ان کے پرائیویسی کیس کے تصفیے کے لیے خطیر ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ہیری نے برطانوی میڈیا کے خلاف اپنی قانونی جنگ کو شاہی خاندان کے بعض افراد، خصوصاً اپنے والد کنگ چارلس سوم اور بھائی پرنس ولیم کے ساتھ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ڈیوک آف سسیکس برطانوی میڈیا پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پریس کی مداخلت نے ان کے تعلقات کو نقصان پہنچایا۔ وہ اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی موت کے لیے بھی پریس کے رویے کو ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں، جو 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں اس وقت ہلاک ہوئی تھیں جب پاپارازی ان کا تعاقب کر رہے تھے۔
