Tuesday, October 20

پاک امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے ذریعے پاکستان کی صفِ اول کی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکی مارکیٹ میں متعارف

PAK–US TECH CONNECT 2026 BRINGS PAKISTAN’S LEADING TECHNOLOGY COMPANIES TO THE US MARKET

اسلام آباد، 20 اکتوبر 2026 (غفران): پاکستان پاک امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے ذریعے اپنی صفِ اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکہ میں متعارف کرا رہا ہے۔ چار شہروں پر مشتمل اس کاروباری دورے کا مقصد تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی قیادت میں اس اقدام کے تحت پاکستان کی 16 معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دو ابھرتے ہوئے نئے کاروباری اداروں کو امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں سے روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 16 اکتوبر کو سلیکون ویلی، 19 اکتوبر کو ڈیلاس، 21 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی اور 23 اکتوبر 2026 کو شکاگو میں کاروباری سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدام وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور فارچیون 1000 کی بڑی امریکی کمپنیوں کے اعلیٰ فیصلہ سازوں، بشمول چیف انفارمیشن آفیسرز اور چیف ٹیکنالوجی آفیسرز، کے درمیان براہِ راست کاروباری روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وفد میں مصنوعی ذہانت، انٹرپرائز سافٹ ویئر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مالیاتی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، صحت سے متعلق ٹیکنالوجی، ڈیٹا انجینئرنگ اور صارفین کے تجربات کے انتظام کے شعبوں میں مہارت رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں میں سسٹمز لمیٹڈ، 10 پرلز، نیٹ سول ٹیکنالوجیز، آئی بیکس گلوبل سلوشنز، ٹیک لاجکس پاکستان، آربی سافٹ، فولیو تھری سافٹ ویئر، کیور ایم ڈی ہیلتھ کیئر، ٹی کے ایکس ای ایل، اسٹریٹجک سسٹمز انٹرنیشنل، ایموبا، ابیکس، ٹی ایم سی، نیکسٹ برج، ایکسیلنس ڈیلیورڈ اور ایڈو اے آئی شامل ہیں۔

پاکستان کے نئے کاروباری اداروں کی نمائندگی سوئچ اور ہائی ایو اے آئی کر رہے ہیں۔ سوئچ تاجروں کے لیے ویب تھری پر مبنی جدید مالیاتی نظام فراہم کرتا ہے، جبکہ ہائی ایو اے آئی مصنوعی ذہانت کی مدد سے جدید اور مؤثر قانونی تربیت کے نظام پر کام کرتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے دور میں دیگر ممالک کے مقابلے میں تیزی سے خود کو ہم آہنگ کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی کمپنیاں مسابقتی لاگت پر خدمات فراہم کرتی ہیں اور دیگر ممالک کی ہم پلہ کمپنیوں کے مقابلے میں انجینئرز کی ملازمت چھوڑنے کی شرح بھی کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک امریکہ ٹیک کنیکٹ کے ذریعے پاکستانی کمپنیاں امریکی کاروباری اداروں کے سامنے اپنی منفرد صلاحیتوں، جدید مصنوعات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں گی۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے ایک اہم منڈی ہے، جہاں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی کمپنیوں کو امریکی کاروباری اداروں کے ساتھ دیرپا تعلقات قائم کرنے اور تجارت، سرمایہ کاری اور جدت کے نئے مواقع حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل جڈی نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی اہم آئی ٹی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور ملک کی سالانہ ٹیکنالوجی برآمدات میں اس کا حصہ 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو بڑی امریکی کمپنیوں کے فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطے، اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام اور امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے مواقع ملیں گے۔

حکام کے مطابق تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ٹیکنالوجی کی دنیا میں بین الاقوامی روابط انتہائی اہم ہیں۔ یہ دورہ پاکستانی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کے دور میں بڑے کاروباری اداروں کی ضروریات سمجھنے، مارکیٹ میں ابھرتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرنے اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ پاک امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 حکومتِ پاکستان کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی صنعت کی بین الاقوامی موجودگی کو مضبوط بنانا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور پاکستان کو ٹیکنالوجی خدمات اور ڈیجیٹل جدت کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر متعارف کرانا ہے۔ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت کام کرنے والا ایک اعلیٰ سرکاری ادارہ ہے، جو ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی صنعت کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ترقی میں معاونت کرنے اور پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی خدمات کے مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔