
واشنگٹن، 18 اگست 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے پیانگ یانگ کے ساتھ دوبارہ رابطے کی ان کی کوششوں کا جواب دے دیا ہے۔ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی ہدایت اور شمالی کوریا کو ’’غیر دھمکی آمیز اور احترام کرنے والا‘‘ ملک قرار دینے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے تعلقات خاصی توجہ کا مرکز رہے، جب دونوں رہنماؤں نے 2018 اور 2019 میں سربراہی ملاقاتیں کیں اور ایک دوسرے کو خطوط بھی بھیجے۔ تاہم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر مذاکرات بعد میں تعطل کا شکار ہوگئے۔ موجودہ دورِ صدارت میں کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے، تاہم امریکی صدر نے متعدد بار شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ براہ راست سفارت کاری بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کم جونگ اُن نے ان کی دوبارہ رابطے کی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا، ’’انہوں نے دیا ہے‘‘، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وائٹ ہاؤس حکام اور نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے مشن نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
اتوار کے روز ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں ’’نمایاں کمی‘‘ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے مشقوں کے اخراجات اور جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ نہ لینے کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا۔ شمالی کوریا طویل عرصے سے ان فوجی مشقوں کو جنگ کی تیاری قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کرتا آیا ہے۔ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے باعث سخت بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔ 2019 میں ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی آخری ملاقات کے بعد سے پیانگ یانگ نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات نمایاں طور پر مضبوط کیے ہیں جبکہ چین کے ساتھ بھی قریبی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ شمالی کوریا کے فوجیوں نے یوکرین میں روس کی جنگ کے دوران روسی افواج کے شانہ بشانہ بھی لڑائی میں حصہ لیا ہے، جبکہ کیف نے روس پر حملوں میں شمالی کوریا کے تیار کردہ میزائل استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین میں روس کے لیے شمالی کوریا کی فوجی حمایت پر متعدد بار تنقید کی ہے، تاہم پیر کے روز امریکی صدر نے کہا کہ کم جونگ اُن نے ’’ہمیشہ میرے ساتھ بہت احترام سے پیش آیا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے کہا، ’’میں اسے سمجھتا ہوں، وہ مجھے سمجھتا ہے۔‘‘ ادھر شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے سے بتایا کہ شمالی کوریا اور روس ’’ایک نئے اور منصفانہ عالمی نظام‘‘ کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لاوروف نے یہ بات شمالی کوریا کی وزیر خارجہ چوئی سون ہوئی کو ایک پیغام میں کہی، جس میں ٹرمپ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ٹرمپ کی پیشکشوں پر ماضی میں سرد مہری اور گزشتہ سربراہی ملاقات کے بعد کم جونگ اُن کی مضبوط پوزیشن کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اور ملاقات ممکن ہے۔ واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے کوریا پروگرام کے سربراہ وکٹر چا نے کہا کہ شمالی کوریا فوری طور پر جواب دینے کا امکان نہیں رکھتا اور ممکنہ طور پر کچھ وقت انتظار کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا پر ٹرمپ کی دوبارہ توجہ کا ایک مقصد ایران جنگ سے متعلق مشکلات سے توجہ ہٹانا بھی ہوسکتا ہے، تاہم امریکی صدر کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات میں واضح دلچسپی رکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے اینڈریو ییو نے کہا کہ ملاقات کم جونگ اُن کے مفاد میں ہوسکتی ہے، خصوصاً ساکھ اور حیثیت کے حوالے سے۔ ان کے مطابق روس اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط ہونے کے باوجود کم جونگ اُن امریکی صدر سے دوبارہ ملاقات کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے لیے سابق امریکی نیشنل انٹیلی جنس آفیسر سڈنی سیلر نے کہا کہ ٹرمپ کا حالیہ اقدام بے مثال نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکا نے 2018 میں کم جونگ اُن کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑی اولچی فریڈم گارڈین فوجی مشقیں معطل کردی تھیں۔