
نیویارک، 23 ستمبر 2026 (کامران راجہ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈنمارک و گرین لینڈ کے رہنماؤں نے تزویراتی اہمیت کے حامل آرکٹک جزیرے گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی اجازت دینے والے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے ٹرمپ کے نیویارک دورے کے دوران طے پانے والے معاہدے میں گرین لینڈ کو امریکا میں ضم کرنے کے ان کے سابق مطالبے کو شامل نہیں کیا گیا، تاہم امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے زیادہ رسائی فراہم کی گئی ہے۔ معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ میں بیلسٹک میزائلوں کے خطرات سے تحفظ کے لیے ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام قائم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدہ امریکا کو گرین لینڈ میں سیکیورٹی اور دیگر ضروریات پر مستقل کنٹرول فراہم کرے گا، جبکہ امریکی منظوری کے بغیر کسی مخالف ملک کو وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے یا حساس سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کے ہمراہ سہ فریقی تقریب میں معاہدے پر دستخط کیے۔ فریڈرکسن نے معاہدے کو طویل مدتی انتظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹو اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور گرین لینڈ کے حقِ خود ارادیت کا احترام کرتا ہے۔