
اسلام آباد، 10 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر میں ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، سماجی تعصب کے خاتمے اور ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی صحت مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور نامکمل ہے۔ رواں سال کے موضوع ’’ذہنی صحت کے تجربات کو سنا جائے، حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کی بات سننے اور ان کے تجربات کو پالیسی سازی، طبی سہولیات اور ان کی زندگیوں سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بامعنی شرکت اور ماہرین کی رہنمائی ذہنی صحت کے مؤثر نظام کی تشکیل اور بہتر حکمت عملیوں کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی صحت صرف بیماریوں کی روک تھام اور علاج تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کی صحت مند نشوونما، صلاحیتوں کے فروغ اور ان کی مکمل استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو انفرادی، خاندانی اور معاشرتی سطح پر جسمانی بیماریوں کی طرح قبول کیا جانا چاہیے اور ان کے علاج کو بھی یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا معاون اور غیر جانب دار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں لوگ امتیازی سلوک، شرمندگی یا معاشرتی دباؤ کے خوف کے بغیر بروقت علاج حاصل کرسکیں۔ وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ بہت سے افراد اب بھی ذہنی صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات، علاج میں تاخیر اور امتیازی رویوں کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی صحت سے متعلق منفی سوچ ختم کرنے اور معیاری طبی سہولیات کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قومی صحت کی خدمات پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-35 پر کام کررہی ہے، جس کا مقصد ذہنی صحت کے لیے زیادہ قابلِ رسائی، منصفانہ اور بنیادی حقوق پر مبنی نظام تشکیل دینا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد اور قابلِ پیمائش نتائج کا حصول حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے ذہنی صحت کے مسائل کی ابتدائی تشخیص اور بروقت مداخلت کو مضبوط بنانے کے ساتھ بنیادی مراکزِ صحت، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بچوں، نوجوانوں، خواتین اور کمزور و محروم طبقات کی ضروریات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، بالخصوص ان افراد کی جو غربت، نقل مکانی، ہنگامی حالات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے متاثر ہیں۔ انہوں نے حکومتوں، تعلیمی اداروں، خاندانوں، سول سوسائٹی، ذہنی صحت کے ماہرین اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مؤثر علاج، دیکھ بھال اور بحالی کی سہولیات یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اور مسلسل کوششیں کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں لوگ خوف، سماجی تعصب یا شرمندگی کے بغیر ذہنی صحت کے بارے میں کھل کر بات کرسکیں اور ہر فرد کو صحت مند، فعال اور بامقصد زندگی گزارنے کے لیے ضروری مواقع اور معاونت میسر ہو۔