اسلام آباد، 31 جولائی2026 (نوشین): وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ بولورما امگآبزر کی قیادت میں وفد نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں ادارے کے اہم کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی سفر میں عالمی بینک کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور اسے پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان باہمی تعاون و مشاورت ملک کی ترقی، استحکام اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے “پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے” کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی اور اس کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔ وفد نے رپورٹ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے ارتقاء، محصولات، اخراجات، وفاقی و صوبائی مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق اپنے تجزیے اور مشاہدات پیش کیے۔ رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، وسائل کے بہتر استعمال، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مختلف پالیسی سفارشات بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی بینک کی جانب سے پیش کیے گئے جامع تجزیے اور بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں مرتب کیے گئے تقابلی جائزے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مطالعات پالیسی سازی کے عمل میں مؤثر رہنمائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عالمی بینک کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے۔ یہ کمیٹی رپورٹ میں پیش کردہ سفارشات کا متعلقہ فریقین، بالخصوص صوبائی حکومتوں، سے مشاورت اور پاکستان کے آئینی و وفاقی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لے گی، تاکہ عوامی مفاد میں قابلِ عمل تجاویز پر غور کیا جا سکے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ اور احسن اقبال، مشیر وزیراعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔
