Tuesday, November 3

میٹا کے اشتراک سے اسلام آباد میں ڈیجیٹل تحفظ سمٹ، بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات پر زور

Meta Hosts Digital Tahafuzz Summit in Islamabad to Promote Online Safety for Children and Teenagers

اسلام آباد، 30 اکتوبر 2026 (نوشین): عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے حکومتی اداروں اور زندگی ٹرسٹ کے تعاون سے اسلام آباد میں پاکستان ڈیجیٹل تحفظ سمٹ کا انعقاد کیا، جس میں نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے، ڈیجیٹل آگاہی بڑھانے اور محفوظ آن لائن ماحول کی فراہمی کے حوالے سے اہم امور زیر بحث آئے۔ سمٹ میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت انسانی حقوق، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے نمائندوں سمیت پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم، والدین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مثبت مواقع فراہم کرنے کے ساتھ سائبر ہراسانی اور دیگر آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے حکومت، والدین، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اجلاس میں صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ، عمر کے مطابق مواد کی فراہمی، حفاظتی نظام کی بہتری اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کم عمر افراد کی عمر کی تصدیق کے لیے موزوں طریقہ کار وضع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر میٹا نے ’’ڈیجیٹل ڈائیلاگز ان ریئل لائف‘‘ کے نام سے ایک مفت آن لائن پروگرام بھی متعارف کرایا، جس کا مقصد نوجوانوں، والدین اور اساتذہ کے درمیان ڈیجیٹل زندگی اور آن لائن مسائل کے حوالے سے آگاہی اور مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے خاندانوں کو فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر پر متعارف کرائے گئے ٹین اکاؤنٹس کی حفاظتی خصوصیات سے روشناس کرایا جائے گا، جن میں نوعمر صارفین سے رابطے، مواد تک رسائی اور سوشل میڈیا کے استعمال کے دورانیے سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔ پروگرام میں عمر کے لحاظ سے مواد کی درجہ بندی اور والدین کی تجاویز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، جبکہ 16 سال سے کم عمر صارفین کو حفاظتی سیٹنگز میں تبدیلی کے لیے والدین کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کی ذمہ داری صرف والدین پر عائد نہیں کی جا سکتی بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنے نظام میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خواندگی میں اضافے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ میٹا کی ڈائریکٹر پبلک پالیسی برائے جنوبی و وسطی ایشیا یوئن ٹنگ چے نے کہا کہ نوجوانوں کی آن لائن حفاظت حکومت، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹا کے ٹین اکاؤنٹس میں حفاظتی سہولیات پہلے سے فعال رکھی گئی ہیں تاکہ نوعمر صارفین کو زیادہ محفوظ ڈیجیٹل تجربہ فراہم کیا جا سکے، تاہم نوجوانوں اور والدین کے درمیان کھلا مکالمہ بھی اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ بچوں کو انٹرنیٹ پر محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کے ساتھ انہیں ڈیجیٹل شعور اور ضروری رہنمائی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے ڈیجیٹل آگاہی کے فروغ اور بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول کی تشکیل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ سمٹ کے اختتام پر میٹا نے متعلقہ حکومتی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور نوجوانوں کی آن لائن سلامتی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔