Monday, August 17

میانمار نے بنگلہ دیش میں تقریباً 3 لاکھ 9 ہزار روہنگیا کی تصدیق کردی، سکیورٹی صورتحال کے باعث واپسی مؤخر

Myanmar Confirms Nearly 309,000 Rohingya in Bangladesh, Cites Security Concerns Over Repatriation

نایپیداو، 17 اگست، 2026 (غفران) — میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ حکومت نے بنگلہ دیش میں موجود 3 لاکھ 8 ہزار 797 بے گھر افراد کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ریاست رخائن کے سابق رہائشی قرار دیا ہے، تاہم میانمار کا کہنا ہے کہ رخائن میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے کے بعد ہی روہنگیا کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے گا۔میانمار کی وزارت خارجہ کے مطابق 31 جولائی 2026 تک بنگلہ دیش کی جانب سے فراہم کیے گئے 8 لاکھ 28 ہزار 824 ناموں میں سے 3 لاکھ 8 ہزار 797 افراد کی تصدیق کی جا چکی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2017 میں میانمار کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد 7 لاکھ سے زائد روہنگیا ہمسایہ ملک بنگلہ دیش فرار ہوئے تھے۔ مزید کئی روہنگیا اب بھی خطرناک زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے میانمار سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔میانمار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی واپسی کی فہرست میں شامل 4 ہزار 241 افراد کی شناخت ایسے لوگوں کے طور پر ہوئی ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جبکہ مزید ایک لاکھ 13 ہزار 507 افراد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

میانمار کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ رخائن ریاست میں سکیورٹی صورتحال مستحکم ہونے کے بعد ہی روہنگیا پناہ گزینوں کی وطن واپسی شروع کی جائے گی۔میانمار کی فوج رخائن میں نسلی مسلح گروپ اراکان آرمی کے خلاف لڑ رہی ہے، جو علاقے کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتا ہے۔میانمار کا مؤقف ہے کہ روہنگیا کی واپسی کا معاملہ صرف میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ مسئلہ ہے۔ 2018 اور 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے سابقہ واپسی کے انتظامات کے باوجود کوئی روہنگیا واپس نہیں گیا تھا۔میانمار نے ملائیشیا میں موجود 5 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو بھی واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ملائیشیا کا کہنا ہے کہ اگر ان کی واپسی سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا تو یہ عمل آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔