
روم، 5 اگست 2026 (نوشین): امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور منگل کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں شروع ہوگیا، جہاں دونوں ممالک سرحدی استحکام کو فروغ دینے اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق فریم ورک معاہدے پر پیش رفت کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے وفود امریکی سفارت خانے پہنچ گئے، جہاں مذاکرات جمعرات تک جاری رہیں گے۔ یہ مذاکرات جون میں واشنگٹن میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تسلسل میں ہو رہے ہیں، جس کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا، اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلا کریں گی، جبکہ لبنانی فوج کو مختلف مراحل میں علاقے میں تعینات کیا جائے گا، جس کا آغاز “پائلٹ زونز” سے ہوگا۔
روم میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ساتویں مذاکراتی دور کی نمائندگی کرتے ہیں، جو مارچ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس کشیدگی کا آغاز حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ حملوں سے ہوا، جس کے جواب میں اسرائیل نے شدید فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں لبنان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے اسرائیلی افواج کا لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان “اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا” کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے تاکہ ملکی خودمختاری مکمل طور پر بحال ہو سکے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق، موجودہ مذاکرات میں پائلٹ زونز کے دائرہ کار کو وسعت دینے، سرحدی تنازعات کے باقی ماندہ مسائل کے حل اور دونوں ممالک کے درمیان جامع امن و سلامتی کے معاہدے کی جانب پیش رفت پر توجہ دی جائے گی
پائلٹ زونز کے منصوبے کے تحت ابتدائی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ گزشتہ مذاکرات کے بعد اسرائیلی افواج نے زاوتر الغربیہ گاؤں کے مضافات سے انخلا کیا، جس کے بعد لبنانی فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور مقامی رہائشیوں کو اپنے گھروں اور کاروباری مراکز کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے مذاکرات کے نئے دور کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں مذاکرات جاری رکھیں تاکہ طے شدہ فریم ورک پر مکمل عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا استحکام قائم ہو۔ دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ان مذاکرات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت لبنان کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے صدر جوزف عون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ غیر جانبدار اور متحد کرنے والے کردار کے بجائے جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ لبنان میں امریکی سفیر مائیکل عیسیٰ نے اس عمل کو احتیاط اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جلد بازی شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ابتدائی پائلٹ زونز کامیابی سے نافذ کیے گئے تو آئندہ مراحل پر عملدرآمد زیادہ مؤثر اور آسان ہوگا۔ روم میں جاری یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے، سلامتی کے انتظامات کو مضبوط بنانے اور لبنان و اسرائیل کے درمیان ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کیے جا رہے ہیں۔